رسائی کے لنکس

’یلغار ‘پاکستان سنیما کی بحالی کے لئے ایک اور بڑی فلم تیار


حسن رانا

فلم ’یلغار‘ بنانے میں انہیں تین سال لگے۔ گزشتہ روز کراچی میں فلم کا پہلا ٹریلر ریلیز کیا گیا۔ اس موقع پر شان کے علاوہ فلم کی تقریباً پوری کاسٹ موجود تھی

پاکستان میں سنیما کی بحالی کے بعد سے اب تک ایسی چند ہی فلمیں آئی ہیں جنہوں نے بے پناہ شہرت حاصل کی، باکس آفس کو اچھابزنس دیا اور لوگ انہیں برسوں یاد بھی رکھیں گے۔

انہی فلموں میں سے ایک بڑا نام فلم ’وار‘ کا ہے۔

اس فلم نے پوری دنیا میں پاکستانی سنیما کو ایک نئی پہچان دی، ملک کا ایک نیا اور مثبت رخ پیش کیا۔ فلم کے ہیرو شان، ڈائریکٹر بلال لاشاری اور پروڈیوسر حسن رانا تھے۔

اب اسی ٹیم کے کچھ نمایاں نام اور چہرے ’یلغار‘ کے نام سے رواں سال عید الفطر پر ایک نئی فلم ریلیز کرنے والے ہیں۔

’یلغار‘ کو اب تک کی سب سے مہنگی فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں فلم کا پہلا ٹریلر ریلیز کیا گیا۔ اس موقع پر شان کے علاوہ فلم کی تقریباً پوری کاسٹ موجود تھی۔شان ان دنوں ایک اور فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

کاسٹ میں ہمایوں سعید،عدنان صدیقی،ایوب کھوسو،بلال اشرف،عائشہ عمر، عطیہ خان،ارمینا خان، علیزے ناصر، عمیر جسوال، ثنا بچہ خان اور گوہر رشید شامل ہیں۔

فلم کے رائٹر اور ڈائریکٹر، ڈاکٹر حسن وقاص رانا نے ’وائس آف امریکہ‘ سمیت دیگر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’دراصل ’یلغار‘ ان شہیدوں کے نام ہے جنہوں نے اس سرزمین کی خاطر اپنی جانیں لٹادیں، ان ماؤں کے نام ہے جنہوں نے ہنستے ہنستے اپنے بیٹے وطن پر قربان کر دیئے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ فلم ’یلغار‘ بنانے میں انہیں تین سال لگے۔ اتنا طویل وقت صرف اس لئے کہ ہم فلم میں کوئی کسر، کوئی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ فلم کا ہر سین حقیقت کے قریب تر ہوکر عکس بند کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے تمام ہتھیار، ہیلی کاپٹرز، گن مشین، گولیاں، دھماکہ خیز مواد ۔۔ سب کا سب اصلی مگر ’ٹریک‘ کے ساتھ استعمال کیا۔ یہاں تک کہ فلم میں آپ کئی ایسے منظر دیکھیں گے جن میں جوانوں کو زخمی ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ان مناظر کی عکس بندی کے دوران ہمارے کئی فنکار حقیقت میں زخمی ہوئے خاص کر ایوب کھوسو‘‘۔

اس حوالے سے انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’فلم کے ایک منظر میں دوران تفتیش ایوب کھوسو کو ڈرل کیا جاتا ہے، حالانکہ ڈرل آگے سے کٹی ہوئی تھی۔ لیکن اچانک چل جانے سے ایوب کھوسو کا بازو زخمی ہوگیا یہاں تک کہ تیزی سے خون بہنے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر ہم لوگ ان کی مرہم پٹی کے لئے دوڑے۔ لیکن، انہوں نے چلا کر منع کر دیا اور بولے ’’خون بہہ رہا ہے ۔۔۔سین خراب ہوجائے گا ۔۔۔آپ شوٹنگ جاری رکھیں ۔۔ ان کے کہنے پر ہم نے سین شوٹ کیا ۔ اس سین میں حقیقت کا عنصر کس حد تک آیا ہوگا آپ خود ہی سوچ لیجئے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ اس فلم میں ایوب کھوسو کا خون شامل ہے ۔‘‘

حسن رانا نے ایک سوال کے جواب میں بتایا ’’فلم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی منظر کشی ہے۔ وطن سے محبت اور حب الوطنی کا حقیقی جذبہ لئے ہوئے ہے۔ ارمینا خان سے جب میں نے فلم میں کام کرنے کی بات کی اور پیسوں کا تذکرہ کیا تو انہوں نے معاوضے میں ایک بھی پیسہ لینے سے صاف انکار کردیا۔ وہ بیرون ملک رہتی ہیں صرف ملک کی محبت میں اس فلم میں کام کرنا انہوں نے منظور کیا۔ میں اس جذبے کو سلام کرتا ہوں۔ ایسے ہی جذبوں کے ساتھ انسان کوئی بھی کام کرے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔۔یہ میں اور میری کاسٹ کے ہر فرد تسلیم کرتا ہے۔‘‘

حسن رانا نے بتایا کہ فلم دنیا بھر میں بیک وقت ریلیز ہوگی۔ یہ ایسی پہلی پاکستانی فلم ہوگی جسے ہزاروں اسکرینز پر پیش ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثنا بچہ پہلی مرتبہ اس فلم کے ذریعے سنیما انڈسٹری میں قدم رکھ رہی ہیں۔

فلم سے جڑی کچھ اور دلچسپ باتیں شیئر کرتے ہوئے حسن رانا کا کہنا تھا کہ فلم میں پہلی بار ہمایوں سعید کو آپ منفی کریکٹر میں دیکھیں گے۔ میں نے ہی انہیں منفی کردار کے لئے آمادہ کیا ۔ ایک اور ایکٹر بلال اشرف نے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے ساڑھے سات ماہ اسپیشل فورسزکے ساتھ گزارےاور ٹریننگ لی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حقیقت کو قریب سے قریب تر ہو کر پکچرائز کرنے کے لئے ان کی کاسٹ کے کئی اہم ارکان نے ہیلی کاپٹر سے 22000 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگائی، حالانکہ ہم کروما ٹیکنالوجی کے ذریعے اس فری فال کو آسانی سے فلم بند کرسکتے تھے۔ لیکن، میں اس پر رضامند نہیں ہوا۔ فلم میں فائٹر پائلٹ کا کردار ادا کرنے والے دو اداکاروں کو ہیلی کاپٹرچلانے کی ہم نے باقاعدہ تربیت دلائی اور کمال یہ ہے کہ کبھی کیمرے کا سامنا نہ کرنے والے پروڈکشن منیجر نے بھی ’یلغار‘ میں اداکاری کی۔‘‘

تصویر کا دوسرا رخ
پاکستان میں جتنی بھی فلمیں بن رہی ہیں عموماً ان کے بارے میں اچھی ہی توقعات کی جاتی ہیں۔ لیکن، تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیبل ٹی وی کے ذریعے فلموں کی نمائش نے فلم بینوں کو سہل پسند بنادیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے نے اس موضوع پر انڈسٹری سے جڑے بہت سے لوگوں سے وقتاً فوقتاً جو تبادلہٴ خیال کیا ہے اس کے مطابق ان ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگی ٹکٹ، ٹرانسپورٹ کا خرچ، زیادہ فیملی ممبرز، زیادہ خرچہ اور بدامنی کے خیالات سنیما ہالز تک جانے کےخیال پر غالب آجاتے ہیں۔

جب تک فلم بین خود ملکی سنیما کے احیا کے لئے کمر بستہ نہیں ہوں گے، بڑے بجٹ اور بڑی کاسٹ کی فلمیں بھی خدشات کا شکار رہیں گی۔

چھوٹی کاسٹ اور چھوٹے بجٹ کی فلموں کا تو ذکر ہی کیا کہ وہ ایک دو شو بعد ہی ڈبے میں پیک ہوجاتی ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران سنیما کی بحالی کے لئے بننے والی کتنی ہی فلمیں اس کی مثال ہیں۔ ان فلموں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

مرے پہ سو درے یہ کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے سہارے کھڑے سنیما ہالز سرحدوں پر کشیدگی اور دونوں جانب کے رہنماؤں یا سیاسی تنظیموں کے بیانات پر بھی مہینوں کے لئے ویران ہوجاتے ہیں۔ ان ان دیکھے مسائل کا حل بھی فی الحال کسی کے پاس نہیں۔جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے ہماری فلموں کا مستقبل خدشات میں ڈوبا رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG