رسائی کے لنکس

شام میں لاپتا ہونے والے جاپانی صحافی کی نئی تصویر جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تصویر میں 42 سالہ یاسوڈا کے بال بڑھے دیکھے جا سکتے ہیں جس میں اس نے نارنجی رنگ کا لباس پہنا ہے۔ اس نے ایک کتبہ اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے ’’مہربانی کرکے میری مدد کرو۔ یہ میرا آخری موقع ہے۔‘‘

شام میں ایک سال قبل لاپتا ہونے والے ایک جاپانی صحافی کی اتوار کو انٹرنیٹ پر تصویر شائع کی گئی ہے جس میں اس نے ایک کتبہ اٹھا رکھا ہے اور اُس پر لکھا ہے کہ ’’یہ میرا آخری موقع ہے۔‘‘

جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمپئی یاسوڈا کے بارے میں خیال ہے کہ گزشتہ سال جب وہ ترکی سے شام میں داخل ہوا اس وقت القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ نے اسے پکڑ لیا۔

نامعلوم تاریخ کو لی گئی ایک تصویر میں 42 سالہ یاسوڈا کے بال بڑھے دیکھے جا سکتے ہیں جس میں اس نے نارنجی رنگ کا لباس پہنا ہے۔ اس نے ایک کتبہ اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے ’’مہربانی کرکے میری مدد کرو۔ یہ میرا آخری موقع ہے۔‘‘

جاپان کے وزیر خارجہ فومیو کیشیدہ نے کہا ہے کہ اس تصویر کا تجزیہ کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ غالب امکان ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص جمپئی یاسوڈا ہی ہے۔

جاپانی کابینہ کے ترجمان یوشیہدی سوگا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت اسے بازیاب کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اگرچہ انہوں نے اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی تفصیل نہیں بتائی۔

آزادانہ صحافت کرنے والے جمپئی یاسوڈا کو 2004 میں بھی بغداد میں یرغمال بنایا گیا تھا۔ جاپانی حکومت نے اس وقت بھی ان کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

گزشتہ سال داعش نے دو جاپانی شہریوں کے سر قلم کر دیے تھے جن میں فری لانس صحافی کینجی گوٹو اور ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے مالک ان کے دوست ہارونہ یاکاوا کو قتل کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG