رسائی کے لنکس

مخدوم شہاب الدین: منزل جیل یا وزارتِ عظمٰی


وزارت عظمیٰ کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد اُمید وار مخدوم شہاب الدین

وزارت عظمیٰ کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد اُمید وار مخدوم شہاب الدین

وزارت عظمیٰ کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد اُمید وار مخدوم شہاب الدین کی گرفتاری کے لیے انسداد منشیات کی ایک عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد بظاہر بے یقینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا۔

ایک طرف تو مقامی ٹی وی چینلز پر مخدوم شہاب الدین کو وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا تو دوسری طرف یہ خبر چل رہی تھی کہ پولیس ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

شہاب الدین سابق وزیر اعظم گیلانی کی کابینہ میں وزیر صحت رہ چکے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بعض دوا ساز کمپنیوں کو مقررہ کوٹے سے زائد مقدار میں ’ایفیڈرین‘ کی درآمد کی اجازت دی۔

ایفیڈرین کوٹہ کیس میں جمعرات کو عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔

اینٹی نارکوٹکس فورس ’اے این ایف‘ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی تحقیقاتی کر رہی ہے اور تفتیشی ٹیم نے راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت سے مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔

علی موسیٰ گیلانی پر الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیراعظم کے بیٹے کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ایفیڈرین کا اضافی کوٹہ من پسند کمپنیوں کو دلوایا۔

مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰ گیلانی دونوں ان الزامات کی نفی کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG