رسائی کے لنکس

سویڈن میں مسلمانوں کی ایک تنظیم 'مسلم ایسوسی ایشن' نے قطب شمالی میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اس ماہ رمضان میں سحر وافطار کے اوقات کے تعین کے لیے نئی سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ایسے میں یورپ کے شمالی خطے میں رہنے والے مسلمان سحر و افطار کے اوقات کے حوالے سے الجھن کا شکار ہیں کیونکہ ان علاقوں میں موسم گرما میں سورج دن کےچوبیس گھنٹے پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سویڈن میں مسلمانوں کی ایک تنظیم ' مسلم ایسوسی ایشن' نے قطب شمالی میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اس ماہ رمضان میں سحر و افطار کے اوقات کے تعین کے لیے نئے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپ بھر میں رمضان الامبارک کا آغاز 18 جون سے ہوگا یعنی تین روز بعد جب 21 جون سے قطب شمالی کا خطہ طویل ترین دن کا مشاہدہ کرتا ہے، اس ماہ میں سورج اس خطے کے زیادہ ترحصوں میں غروب نہیں ہوتا ہے یا پھرقطب جنوب کی طرف صرف چند گھنٹوں کے لیے غروب ہوتا ہے۔

سویڈش مسلم ایسوسی ایشن نے ایک اجلاس میں کہا کہ قطب شمالی میں رہنے والے مسلمانوں کے لیےنئے رہنما اصول رمضان کی مناسبت سے مرتب کئے جا رہے ہیں۔ جب اس خطے میں سورج آدھی رات کو بھی چمکتا رہتا ہے اور اندھیرے کی غیر موجودگی میں سحر و افطار کے اوقات کا تعین مشکل ہو جاتا ہے ۔

تنظیم کےترجمان خراقی نے بتایا کہ 'ہمیں دو طرح کے مشکل سوالات کا سامنا ہے نا صرف یہ کہ شمالی خطے میں رہنے والے مسلمان افطار کب کریں گے بلکہ ایک پیچیدہ سوال یہ بھی ہے کہ یہاں سحری کے لیے کیا اوقات ہوں گے'۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال رمضان کے مہینے میں قطب شمالی کے ذیلی علاقوں مثلاً کیرونا کے مسلمانوں کو ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ قطب جنوبی کے مسلمانوں کے روزوں کے اوقات کے مطابق سحر و افطار کا اہتمام کریں۔

لیکن اس اہم اجلاس میں علماء کی جانب سے پورے خطے میں ایک نقطہ نظر کی سفارش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مشاورتی اجلاس کی تجاویز کے بارے میں محمد خراقی نے کہا کہ رمضان میں شمالی قطب میں رہنے والے لوگوں کو ہدایات جاری کی جاسکتی ہے کہ وہ سحر و افطار کے لیے ان اوقات کی پابندی کریں جب انھوں نے اپنے علاقے میں آخری بار سورج کو طلوع اور غروب ہوتے دیکھا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے ابھی تفصیلی ہدایات پر کام کیا جارہا ہے جس میں شام میں جلدی افطار کی تجویز کو شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ باقی مسلم دنیا کے اوقات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ اسٹاک ہوم میں جون کے اواخر میں صرف پانچ گھنٹوں کے لیے تاریکی پھیلتی ہے لوگ ایسے میں 19 گھنٹے کا طویل ترین روزے سنبھال نہیں سکتے ہیں اور ان کا کام کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہوجاتا ہے، اس حالت میں اکثر روزہ توڑنا پڑتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ نئے اصول یورپ کے مسلمانوں کی ایک اجتماعی تنظیم 'یورپی کونسل فتوی اور ریسرچ 'کی طرف سے مرتب کئے جارہے ہیں جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ پورے خطے میں لاگو کئے جائیں گے اور روزہ داروں کے لیے عمومی ہدایات کا ذکر بھی ہوگا کہ کونسی وجوہات کی وجہ سے ایک روزہ دار کو مجبورا روزہ توڑنے کی اجازت ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG