رسائی کے لنکس

خلائی تحقیق سے 1,300 نئے سیاروں کی دریافت


ناسا کی کیپلر دور بین خلا میں سفر کر رہی ہے۔ فائل فوٹو

ناسا کی کیپلر دور بین خلا میں سفر کر رہی ہے۔ فائل فوٹو

دریافت کیے گئے ممکنہ سیاروں میں سے لگ بھگ 550 حجم کے لحاظ سے زمین کی طرح کے ہیں اور پتھریلے ہیں۔

امریکہ کے خلائی تحقیق ادارے ناسا نے نظام شمسی سے باہر ستاروں کے گرد گھومتے لگ بھگ 1,300 سیارے دریافت کیے ہیں جن میں سے نو ایسے ہیں جو اپنے ستاروں سے اتنے مناسب فاصلے پر ہیں کہ ان پر زندگی کے پنپنے کا امکان ہے۔

ناسا نے منگل کو اعلان کیا کہ کیپلر خلائی دور بین سے خلا میں 1,284 سیاروں کی موجودگی کی تصدیق کی۔

ناسا کے ایسٹروفزکس کے ڈائریکٹر پال ہرٹز نے کہا کہ دوسرے سیاروں پر زندگی کا کھوج لگانے کے لیے تحقیق بہت ضروری ہے۔

’’اس سے ہمیں امید ملتی ہے کہ کہیں دور ہمارے سورج جیسے کسی ستارے کے گرد ہم بالآخر ایک اور زمین دریافت کر لیں گے۔‘‘

ہم زمین جیسے سیاروں کو ہی کیوں تلاش کریں؟

کیلیفورنیا میں ناسا کے ایمز ریسرچ سنٹر میں کیپلر مشن کی سائنسدان نیٹلی بٹلا نے کہا کہ ’’دریافت کے اس عمل میں حصہ لینا ہم سب کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔‘‘

ان کا خیال ہے کہ ہمارے اپنے سیارے سے دور کسی چیز کو دیکھنا انسانوں کو زمین پر اپنی زندگی کی قدر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں میں دوسرے افراد کے لیے زیادہ ہمدردی بھی پیدا کرتا ہے۔

نیٹلی نے کہا کہ چاند سے لی گئی زمین کی پہلی تصویر سے لوگ قومی سرحدوں سے آگے اور کرہ ارض اور اس کی آبادی کو ایک ہی دھرتی کے طور پر دیکھنے کے قابل ہوئے تھے۔

انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین نے اگست 2006 میں سیارے کی پہلی سائنسی تعریف کی منظوری دی تھی جس کے مطابق سیارہ کہلانے کے لیے تین خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔

ایک یہ کہ وہ کسی ستارے کے گرد گردش کر رہا ہو۔ دوسرا وہ اتنا بڑا ہو کہ کشش تقل سے اس کی شکل گیند جیسی ہو جائے اور تیسرا اس کی کشش ثقل میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اپنے مدار میں موجود دیگر اشیا کو صاف کر دے۔

دریافت کیے گئے ممکنہ سیاروں میں سے لگ بھگ 550 حجم کے لحاظ سے زمین کی طرح کے ہیں اور پتھریلے ہیں۔

زمین جیسے ان سیاروں میں سے نو اپنے ستاروں کے گرد اتنے فاصلے پر گردش کر رہے ہیں جس سے ان پر مائع پانی جمع ہو سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں ایسے حالات ہیں جن میں ایسی زندگی ہونا ممکن ہے جو زمین پر پائی جاتی ہے۔

کئی دہائیوں تک دیگر سیاروں پر زندگی کے آثار پانے کا خیال لوگوں میں بہت تجسس کا باعث رہا ہے۔

تاہم حال ہی میں آنے والی فلمیں ’دی مارشیئن‘ اور ’انٹرسٹیلر‘ کا محور خلائی مخلوق سے ملاقات کی بجائے انسانوں کے لیے قابل رہائش دیگر سیاروں کی تلاش رہا ہے جنہوں نے زمین کے وسائل کو استعمال کر کے ختم کر دیا ہے۔

تاہم نیٹلی بٹلا کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ انسانوں کے لیے نئے گھر کی بجائے صرف زندگی کے آثار تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

مزید نئے سیاروں کی دریافت سے مزید تحقیق کے لیے بہت امید پیدا ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG