رسائی کے لنکس

کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشکی اور پانی دونوں میں رہنے والے اور دیگر جانوروں کی آبادی میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین چھٹی مرتبہ ’’بڑے پیمانے پر معدومی‘‘ سے گزر رہی ہے۔

برطانیہ کے سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ مینڈک کے نوزائیدہ بچوں یعنی ٹیڈپول میں ایک نئی اور انتہائی متعدی بیماری پیدا ہو رہی ہے جو دنیا بھر میں مینڈکوں کی آبادی کو متاثر کر رہی ہے۔

سائنسدانوں نے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز جرنل‘ میں پیر کو شائع ہونے والے ایک مطالعے میں کہا ہے کہ ایک خلیے پر مشتمل جرثومے سے ہونے والی یہ بیماری تین براعظموں کے چھ ممالک سے حاصل کیے گئے ٹیڈپول کے جگر کے نمونوں میں پائی گئی۔

اس مطالعے کے مصنفین میں سے ایک ایکسیٹر یونیورسٹی کے ٹامس رچرڈز نے کہا کہ ’’دنیا بھر میں مینڈکوں کی آبادی میں شدید کمی آ رہی ہے اور متعدی بیماریاں اس کا ایک بڑا سبب ہے۔‘‘

’’ہمیں اب یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ نیا جرثومہ اس پیمانے پر بیماری پیدا کر رہا ہے جس سے مینڈکوں کی آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔‘‘

خشکی اور پانی دونوں میں رہنے والے جانوروں کا گروپ سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔ 2008ء میں مینڈک کی 32 پرجاتیوں کو خطرے کا شکار یا معدوم قرار دے دیا گیا تھا، جبکہ 42 پرجاتیوں کو ان جانوروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جن کی آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشکی اور پانی دونوں میں رہنے والے اور دیگر جانوروں کی آبادی میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین چھٹی مرتبہ ’’بڑے پیمانے پر معدومی‘‘ سے گزر رہی ہے۔ جانوروں کی نسلیں اتنی تیزی سے معدوم ہو رہی ہیں کہ ان کا موازنہ صرف 250 سال کے اندر زمین سے ڈائنوسار کی معدومی سے کیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG