رسائی کے لنکس

اس ٹیسٹ کی مدد سے جن کیمیکلز کا ٹیسٹ کیا گیا ان میں ڈائی آکسن، بائی فینل اے اور بی پی اے جیسے مہلک کیمیکلز شامل ہیں، جن کی وجہ سے مختلف اقسام کے کینسر ہو سکتے ہیں جیسا کہ جلد، دماغ اور پھیپھڑوں کا سرطان

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے استعمال کی روز مرہ کی اشیا میں بہت سے ایسے کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جو سرطان کا سبب بن سکتے ہیں؟ ہم ان میں سے اکثر کیمیای مادوں سے ناواقف ہیں اور ان کے بارے میں نہیں جانتے۔

اب سائنسدانوں نے ایک ایسا سادہ سا ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے اس بات کا تعین ممکن بنایا جا سکے گا کہ کون سے کیمیکلز ہماری صحت پر برے اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور انسان میں سرطان کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں سپر مارکیٹوں میں دستیاب چیزوں میں تقریباً 80 ہزار مختلف کیمیلکز موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز دواسازی اور کیڑے مار ادویات سے لے کر ہمارے استعمال کی روز مرہ اشیا میں موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ قالین کی صفائی اور گھر کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی چیزیں۔

مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرشل چیزوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے محض 2 فی صد کیمیکلز پر ہی اس نئی تحقیق سے پہلے تک ٹیسٹ کیے جا سکے تھے، تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ کیمیکلز انسان میں سرطان پھیلانے کے کس حد تک ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمیائی مادوں کا یہ ٹیسٹ وقت طلب اور مہنگا تھا۔ مگر اب بوسٹن یونیورسٹی سے منسلک تحقیق دانوں نے ایک ایسا ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جس سے ہزاروں کیمیائی مادوں کا ٹیسٹ کرنا ممکن ہے۔

اس ٹیسٹ کی مدد سے جن کیمیکلز کا تجزیہ کیا گیا ان میں ڈائی آکسن، بائی فینل اے اور بی پی اے جیسے مہلک کیمیکلز شامل ہیں، جن کی وجہ سے مختلف اقسام کے کینسر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ جلد، دماغ اور پھیپھڑوں کا کینسر۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یوں تو ان مہلک کیمیکلز پر دنیا بھر کے مختلف ممالک اور خاص طور پر امریکہ میں پابندی لگی ہے، مگر اس کے باوجود ان کا استعمال دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG