رسائی کے لنکس

ڈاکٹروں نے 66 مریضوں پر ابتدائی تشخیص اور آپریشن کے مختصر وقفے کے دوران 'ہرسیپٹن' اور' لاپاٹینیب' نامی ادویات کا تجربہ کیا اور یہ دیکھا کہ،جب عورتوں کو دونوں ادویات ملا کر ایک ساتھ دی گئیں تو اس کا سرطان کی رسولی پر کیا اثر ہوا ۔

برطانوی ڈاکٹروں نے چھاتی کے سرطان کا ایک نیا علاج دریافت کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نئے طریقہ علاج نے عورتوں میں مہلک سرطان کی رسولی کو 11روز میں ختم کر دیا۔

نئی تحقیق میں ڈاکٹروں نے انسداد سرطان کی دو ادویات کو تجرباتی طور پرکامیابی سے استعمال کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نئے علاج کے ذریعے چھاتی کے سرطان میں مبتلا 'کم عورتوں' کو کیمیو تھراپی کی ضرورت پڑے گی۔

محققین نے بتایا کہ انھوں نے چھاتی کے آپریشن سے پہلے کچھ مریضوں میں رسولی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے انسداد کینسر کی دو ادویات کو ملا کر استعمال کیا ہے۔

جن میں سے ہر دس میں سے نو عورتوں نے علاج کے لیے کچھ ردعمل ظاہر کیا تھا اور ہر چار میں سے ایک عورت میں رسولی یا ٹیومر نمایاں طور پر سکڑ گیا اور بعض صورتوں میں مکمل طور پر غائب ہوگیا تھا۔

محققین نے نتائج کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس بیماری پر کسی علاج نے اس طرح کا ردعمل دکھایا ہے اور نئے تجربات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیا علاج اس بیماری کی دیگر اقسام کے علاج میں بھی انقلاب آسکتا ہے۔

'مانچسٹر یونیورسٹی' اور' یونیورسٹی اسپتال ساؤتھ مانچسٹر' کی قیادت میں کی جانے والی تحقیق کے اعدادوشمار کو دسویں 'یورپین بریسٹ کینسر کانفرنس' میں پیش کیا گیا۔

یہ تحقیق 257 سرطان کے ایسے مریضوں پر ہوئی جو چھاتی کے سرطان کی ایک جارحانہ فارم HER2پوزیٹیو میں مبتلا تھیں۔ اس بیماری میں رسولی تیزی سے پھیلتی ہے اور دیگر اقسام کے مقابلے میں علاج کے بعد دوبارہ لوٹ آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا عام طور پر آپریشن، کیمیو تھراپی، اینڈوکرائن تھراپی اور اینٹی ہر 2 ہدف ادویات کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں نے 66 مریضوں پر ابتدائی تشخیص اور آپریشن کے مختصر وقفے کے دوران 'ہرسیپٹن' اور' لاپاٹینیب' نامی ادویات کا تجربہ کیا اور یہ دیکھا کہ جب عورتوں کو دونوں ادویات ملا کر ایک ساتھ دی گئیں تو اس کا سرطان کی رسولی پر کیا اثر ہوا۔

محققین نئے علاج کی جانچ کرنا چاہتے تھے اور یہ طریقہ علاج کتنا موثر ہے اس کی پیمائش کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انھوں نے گیارہ روز بعد مریضوں کا آپریشن کیا۔

لیکن طبی عملہ یہ جان کر حیران رہ گیا کہ اس گروپ میں سے تقریباً ایک چوتھائی مریضوں میں سرطان کے خلیات غائب ہوگئے تھے یا نمایاں طور پر سکڑ گئے تھے جبکہ عام طور پر رسولی پر یہ ردعمل ظاہر ہونے میں مہینوں یا سال لگ جاتے ہیں۔

مریضوں کی اکثریت نے اس علاج کے لیے ردعمل ظاہر کیا اور 87 فیصد مریض حیاتیاتی تبدیلیوں سے گزرے۔، جس سے ان میں سرطان کے خلیات کی تعداد گر گئی تھی۔

تحقیق کے سربراہ نائجل بینڈریڈ جو مانچسٹر یونیورسٹی سے منسلک ہیں کہتے ہیں کہ ٹھوس رسولی گیارہ دنوں میں غائب ہوتے کبھی سنا نہیں گیا ہے اور یہ نتائج سمجھ سے بالاتر ہیں۔

تحقیق کے شریک سربراہ سرجن پروفیسرجوڈت بلس نے کہا کہ ایک ذیلی گروپ کے 28 فیصد مریضوں نے اس علاج کے لیے شاندار ردعمل ظاہر کیا۔

علاوہ ازیں 11 فیصد کیسز میں رسولی دو ہفتے سے کم دنوں میں مکمل طور پر غائب ہوگئی۔

مزید17 فیصد مریضوں میں بہت کم بقایا بیماری تھی اور ان میں مہلک ترین رسولی سکڑ کر انتہائی چھوٹی یا 5 ملی میٹر سے بھی کم رہ گئی تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ طریقہ کار کس طرح کام کرتا ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ ان ادویات کا مجموعہ کینسر کے خلیات کی تقسیم کو روکتا ہے، انھیں ختم کرتا ہے اور مدافعتی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

بریسٹ کینسر کیئر کی چیف ایگزیکٹیو سمیعہ القاضی نے کہا کہ تحقیق کے حیرت انگیز نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھاتی کے سرطان کے مریضوں میں ان دو مخصوص ادویات کے اثرات شاندار ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیمیو تھراپی اور اس کے ضمنی نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں عام طور پر مریضوں کو ہرسپٹن نامی دوا تقریباً 12 ماہ کے لیے دی جاتی ہے اس علاج کی لاگت 20 ہزار پاونڈ ہے۔

XS
SM
MD
LG