رسائی کے لنکس

اُنھوں نے ’خامیوں اور ناکامیوں‘ کو تسلیم کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا کہ تبدیلی، اصلاح اور بہتری کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں، جس میں نوکرشاہی کی پیدا کردہ مشکلات حائل ہیں، جن کے باعث اقوام متحدہ کی جانب سے عملہ بھرتی کرنے اور عالمی بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بروقت اقدام میں تاخیر ہوجاتی ہے

اقوام متحدہ کے نئے سکریٹری جنرل، اینٹونیو گوئیٹرس نے کہا ہے کہ ’’ہمیں انتہائی مشکل حالات درپیش ہیں‘‘، جس بنا پر، ضرورت اِس بات کی ہے کہ عالمی ادارہ ’’کثیر ملکی کوششوں کو فروغ دے‘‘۔

منگل کے روز اقوام متحدہ کی لابی میں اپنے غیر تحریر شدہ کلمات میں، 67 برس کے گوئیٹرس نے مختصراً اپنی سوچ اور ادارے کی سمت بیان کی، جس پر وہ اگلے پانچ سال کی میعاد کے دوران عمل درآمد کریں گے، جس کا اتوار کو پہلا دِن تھا۔ وہ سالِ نو کی تعطیل کے بعد پہلے روز چند سو پر مشتمل عملے سے گفتگو کر رہے تھے۔

بقول اُن کے، ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی مشکلات کا جواب دیا جائے، دنیا کے ہر شخص کی تشویش کو مدِ نظر رکھا جائے، خواہشات کا خیال رکھا جائے، اور یہ کام آسان نہیں۔ اور ہمیں ایمانداری سے کہہ دینا چاہیئے کہ اس کے لیے ابھی ہم مکمل طور پر تیار نہیں ہیں‘‘۔

گوئیٹرس نے ادارے کی خامیوں اور ناکامیوں کو تسلیم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تبدیلی، اصلاح اور بہتری کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں، جس میں نوکرشاہی کی پیدا کردہ مشکلات حائل ہیں، جن کے باعث اقوام متحدہ کی جانب سے عملہ بھرتی کرنے اور عالمی بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بروقت اقدام میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

گوئیٹرس 1995ء سے 2002ء تک پرتگال کی سابق وزیر اعظم اور 2005ء سے 2015ء تک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ رہے۔ اُنھوں نے اس بات پر اظہارِ تشویش کیا کہ دنیا کو عالمی مسائل درپیش ہیں، جن کا عالمی حل درکار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کثیر ملکی کوششیں اپنانے پر زور دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ اس کثیر ملکی اندازِ فکر کا منبہ ہے‘‘۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG