رسائی کے لنکس

ایران نے اکتوبر اور نومبر میں میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اکتوبر میں کیا جانے والا تجربہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں ایران پر بیلسٹک میزائل کی تیاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ایران نے پیر کو کہا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق نئی امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں کیونکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ہتھیار فروخت کرتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف امریکی پابندیوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں۔‘‘

’’امریکہ ہر سال علاقے کے ملکوں کو ٹنوں کے حساب سے اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ یہ اسلحہ فلسطینی، لبنانی اور حالیہ مہینوں میں یمنی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ امریکہ نے ایران کی طرف سے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد اس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

نئی پابندیاں پانچ ایرانی شہریوں اور متحدہ عرب امارات اور چین میں رجسٹرڈ چھ کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں جو امریکی حکام کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

ایران نے اکتوبر اور نومبر میں میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اکتوبر میں کیا جانے والا تجربہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں ایران پر بیلسٹک میزائل کی تیاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پابندی صرف ان میزائلوں سے متعلق تھی جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے میزائلوں میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں۔

امریکہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میزائلوں کا واحد مقصد جوہری ہتھیاروں کی ترسیل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت امریکہ اور یورپی یونین نے ہفتے کو ایران پر کئی سال سے عائد اقتصادی پابندیاں ہٹا لیں تھیں۔

XS
SM
MD
LG