رسائی کے لنکس

نئے سال کے آغاز میں 12 انگور ایک ساتھ کھانا خوش قسمتی تصور کیا جاتا ہے، تو کہیں گھر کا فرنیچر کھڑکی سے باہر پھینک کر بدقسمتی کو گھر سے باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے

دنیا کےتقریباً تمام ملکوں میں سال نو کی آمد کا جشن دھوم دھام سےمنایا جاتا ہے۔ اس موقع پر، دنیا کے بیشتر ملکوں میں رنگ برنگی پھلجھڑیوں اور آتش بازی کے ساتھ نئے سال کا خیرمقدم کرنے کی روایات عام ہیں۔

لیکن، کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کےبہت سے ملکوں میں لوگ بدقسمتی کو دور بھگانے کے لیے اور نئے سال میں اچھی صحت، خوشحالی اور خوش قسمتی کو اپنے گھر مدعو کرنے کے لیےاس رات میں طرح طرح کی رسومات ادا کرتے ہیں۔

کہیں، نئے سال کے آغاز میں 12 انگور ایک ساتھ کھانا خوش قسمتی تصور کیا جاتا ہے، تو کہیں گھر کا فرنیچر کھڑکی سے باہر پھینک کر بدقسمتی کو گھر سے باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ غرض دنیا بھر میں موجود سال نو کے جشن کے ساتھ جڑی ہوئی ایسی ہی عجیب و غریب روایات کا ذکر ذیل میں کیا گیا ہے۔

ڈنمارک میں یہ روایت برسوں سے چلی آرہی ہے کہ لوگ سال بھرگھرکے پرانے شیشے کے برتنوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور 31 دسمبر کی شام اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے گھروں کےمرکزی دروازے سے انھیں توڑ کر چکنا چور کر دیتے ہیں۔ اس روایت کا مقصد آئندہ برس کے لیے دوستوں اور عزیز و اقارب کو خوش قسمتی کا پیغام دینا ہے۔ یہاں کرسیوں پر کھڑے ہو کر رات کے ٹھیک بارہ بجے چھلانگ لگا کر نئے سال کا استقبال کرنے کی روایت بھی عام ہے۔

فلپائن میں سال کے آخری دن لوگ گول اشکال والی چیزیں استعمال کرتے ہیں جن میں پھل اور سبزیاں وغیرہ شامل ہیں۔ یہ روایت دراصل دولت یعنی سکوں کو ظاہر کرتی ہے۔ لوگ نئے سال میں منافع کمانے اور خوشحالی پانے کے لیےاس روز یہ رسم ادا کرتے ہیں۔

یہاں سال کی آخری شب کے ساتھ جڑی ہوئی یہ روایت بھی عام ہے کہ لوگ اس رات گھر کی تمام لائٹس آن کردیتے ہیں اور گھر کےدروازے، کھڑکیاں اور کیبنٹ کھول دئیے جاتے ہیں اور رات کے بارہ بجتے ہی انھیں پھرتی کےساتھ بند کردیا جاتا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں یہ عجیب و غریب روایت عام ہے کہ یہاں سال نو کا آغاز فرش پر آئس کریم گرا کر کیا جاتا ہے۔

کولمبیا میں لوگ اس روز خالی سوٹ کیس لےکر گلیوں اور محلوں میں گھومتے ہیں، تاکہ نیا سال ان کے لیے سیر و تفریح اور سفر کے مواقع لے کر آئے۔

ارجنٹینا میں لوگ نئے سال کا خیر مقدم داہنے پیر پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں، تاکہ آنے والا سال ان کے خاندان کے لیے خوش قسمتی اور خوشحالی لے کر آئے۔

روس میں عام طور پر لوگ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے آئندہ برس کے لیے ایک خواہش کاغذ پر لکھ کر اسے جلاتے ہیں اور پھر اس راکھ کو مشروب میں گھول کر پیتے ہیں جو شخص رات کے ٹھیک بارہ بجے ایسا کرنےمیں کامیاب ہوتا ہے اس کے لیے نے سال کو خوش قسمت تصور کیا جاتا ہے۔

چلی میں خاندان سال کی آخری شب قبرستانوں میں اپنے پیاروں کے ساتھ گزارتے ہیں چلی میں یہ روایت برسہا برس سے چلی آرہی ہے، یہاں اس رات میں منہ بھر کر دال کھانا بھی خوش قسمتی کا ٹوٹکا تصور کیا جاتا ہے، جبکہ سال کی آخری رات گھر کی جھاڑو دینا اور کچرا گھر سے باہر نکالنے کو بد قسمتی بھگانے سے تصور کیا جاتا ہے۔

بولیویا کے لوگ نئے سال کے جشن منانے کے لیے سویٹ ڈش تیار کرتے ہیں جس میں ایک سکہ چھپا ہوتا ہے یہاں کے لوگوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جس شخص کے حصے میں سکہ آتا ہے اس کے لیے نیا سال خوش بختی لے کر آتا ہے۔

اسٹونیا: یہاں لوگ نئے سال پر سات بار کھانا کھاتے ہیں، تاکہ سال بھر ان پر اسی طرح رزق کی فراوانی رہے۔

اسپین: ہسپانوی لوگوں میں یہ نئے سال کی آمد کے جشن کے ساتھ یہ روایت جڑی ہوئی ہے کہ اس رات بارہ بجے سے پہلے جو شخص بارہ انگور منہ میں بھر کر ایک ساتھ کھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اسے آئندہ برس کے لیے خوش قسمت تصور کیا جاتا ہے۔

برازیل میں لوگ سال نو کا جشن خاص طور پر سفید لباس پہن کرمناتے ہیں، تاکہ شیطانی قوتوں کو دور بھگایا جا سکے۔ جبکہ، یہاں سال کی آخری شب میں ساحل سمندر پر کھڑے ہوکر کوئی خواہش کرتے ہوئے پانی میں میں پھول اچھالنے کی روایت بھی عام ہے۔

رومانیہ کے لوگوں میں یہ روایت برسہا برس سے چلی آرہی ہے کہ اس روز قسمتی حاصل کرنے کے لیے ایک سکہ دریا میں اچھالا جاتا ہے۔ یہاں سال کی اختتامی شب کسان گائے کے کان میں سرگوشی کرتے ہیں اور اسے نیا سال مبارک کہتے ہیں۔ لیکن، اگر گائے جواب میں کچھ ردعمل ظاہر کرے تو اسے آئندہ برس کے لیے بد قسمتی تصور کیا جاتا ہے.

پورٹو ریکو کے لوگ اس شام بالٹی یا گلاس میں پانی بھر کر گھر کی کھڑکی سے باہر پھینکتے ہیں جس کا مطلب گھر سے بری قوتوں کو باہر نکالنا تصور کیا جاتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کچھ حصوں خاص طور پر جوہانسبرگ میں نئے سال کا جشن گھرکے کھڑکی سے پرانا فرنیچر باہر پھینک کر کیا جاتا ہے۔

آئرلینڈ کے لوگ نئے سال کےآغاز پر شیطانی قوتوں کو گھر سےباہر نکالنے اور خوش قسمتی کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے گھر کے دروازوں اور دیواروں پر ڈبل روٹی کے ٹکڑے پھینکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں جہاں آتشبازی کے بڑے بڑے مظاہروں کے ساتھ نئےسال کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، وہیں یہ روایت بھی عام ہے کہ اس روز لوگ سڑکوں اور گلیوں میں گھر کے برتنوں کو بجا کر نئے سال کا اعلان کرتے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ میں لوگ سال کی آخری شب اپنے گھر کےصدر دروازے پر رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔ لہذا، اگلے دن جو شخص بھی اس رکاوٹ کو پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتا ہے اسے گھر والوں کی خوش بختی کے لیے ایک تحفہ لانا پڑتا ہے۔

جاپان میں نئے سال کا جشن کا آغاز 108مرتبہ گھنٹہ بجا کر کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ایسا کرنا سال بھر کے گناہ دھل جاتے ہیں۔

اسی طرح فرانس میں لوگ سال نو کی آمد پر خوب جی بھر کر پین کیک کھاتے ہیں، جبکہ ترکی میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ اس رات انار کے دانے گھر کی کھڑکی سے باہر پھینکے جاتے ہیں۔ اسی طرح، گوئٹے مالا کے لوگ سال نو کے لیے خوش قسمتی حاصل کرنے کے لیے بارہ سکوں کو گھر سے باہر اچھالنے کی رسم ادا کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG