رسائی کے لنکس

نیویارک میں دھماکا، صدارتی امیدواروں کی گفتگو کا موضوع


ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تارکین وقت کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے کے معیار کو سخت بنانے پر زور دیا ہے۔

نیویارک اور نیو جرسی میں ہونے والے دھماکے امریکی صدارتی امیدوار کی گفتگو کا موضوع بھی بنے ہیں اور انھوں نے انتظامیہ سے ایسے واقعات کے تدارک کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں ہفتہ کو دیر گئے ہونے والے دھماکے میں 29 جب کہ نیوجرسی میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔ پولیس نے ان دھماکوں سے تعلق کے الزام میں ایک افغان نژاد امریکی شہری کو حراست میں لیا ہے۔

پیر کو نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے لیے نئے "انٹیلی جنس اقدام" چاہتی ہیں۔

ہلری کلنٹن

ہلری کلنٹن

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں امریکہ میں ٹیکنالوجی کا گڑھ "سلیکون ویلی" کے ماہرین ایسے اقدام کر کے مدد کر سکتے ہیں جس میں حملوں کے منصوبہ سازوں کی انٹرنیٹ پر گفتگو کی نگرانی کر کے "حملوں کو رونما ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔"

کلنٹن نے کہا کہ "ہمیں خوفزدہ نہیں بلکہ چوکس رہنا ہے۔"

ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک رکن سوزن کولنز نے زور دیتے ہوئے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قانون نافذ کرنے والے امریکی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیز ملک میں انتہا پسندی کی طرف راغب ہونے اور ایسے حملے کرنے والوں کی طرف سے "آنکھ بند کیے ہوئے ہیں۔"

ریپبلکن سینیٹر نے کہا کہ "ہمارے قانون نافذ کرنے والوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ ان لوگوں پر نظر رکھیں جن کے انتہا پسندی کی طرف جانے کا خطرہ ہے۔ ان لوگوں کو انتہا پسند ہونے کے لیے دیگر ملکوں کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے انتہا پسند بن سکتے ہیں۔ "اور ایسے میں جب ٹیکنالوجی سے وابستہ لوگ ایسی ایپلیکیشنز بنا رہے ہیں کہ جو کسی کے بھی انتہا پسند ہو کر ہمارے ملک کے لیے خطرہ بننے کو بھانپ جاتے ہیں، تو ہمارے قانون نافذ کرنے والے حکام نہیں دیکھ سکتے کہ کیا ہو رہا ہے۔"

سینیٹر کولنز کا یہ بیان تازہ دھماکوں سے مبینہ طور پر وابستہ شخص کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا۔

ادھر ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تارکین وقت کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے کے معیار کو سخت بنانے پر زور دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی سر زمین پر دہشت گرد حملوں کے ذمہ داران کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ہلری کلنٹن ایسے ہی لاکھوں لوگوں کو ملک میں آنے کی اجازت دینا چاہتی ہیں۔"

ٹرمپ نے کہا کہ پولیس "ایسے بہت سے لوگوں کو جانتی ہے" لیکن "وہ ان کے خلاف کارروائی سے اس لیے ڈرتی ہے" کہ پولیس کو نسل امتیاز کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ بھی "جانچ کے سخت طریقے" چاہتی ہیں لیکن ان کے بقول امریکہ کے پاس مناسب انتظامات ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر دہشت گرد بننے والوں کو باہر رکھنے کے چیلنجز سے نمٹ سکے۔

XS
SM
MD
LG