رسائی کے لنکس

'حکومت کے پاس آئی ایس آئی کے دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا'


'حکومت کے پاس آئی ایس آئی کے دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا'

'حکومت کے پاس آئی ایس آئی کے دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا'

پاکستان کی دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے خفیہ اداراے آئی ایس کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے خلاف نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمے کے دفاع کے حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سول حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ موجودہ صورتحال میں اگر حکومت امیونیٹی (استثنیٰ ) چاہتی بھی تو شاید بات نہ بنتی اس لیے حکومت نے اپنے خفیہ ادارے کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول ‘‘ حکومت کے پاس کوئی اورچارہ بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ خود کو فوج کے مزاج کی تندی اور تیزی سے بچائے اور اس کا دفاع کرے’’

ان کا کہنا ہے کہ بروکلین عدالت میں مقدمہ طول پکڑ سکتا ہے خاص طور پر جب اسے ڈیوڈ ہیڈلے کے بیانات کے تناظر میں دیکھیں اور اس پس منظر میں کہ پاکستان مییں لکھوی جیسے لشکر طیبہ کے لوگ پکڑے گئے ہیں، ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے اوربھارت ان تک پہنچ چاہتا ہے۔ اس طرح جب اتنے معاملات لٹکے ہوئے ہوں یہ مقدمہ لمبے عرصے تک لٹک سکتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہراحمربلال صوفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت پاکستان نے بنیادی طور پر ایک مستحکم سیاسی پوزیشن لی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ عدالتی فورم پر بھی ثابت کر سکے کے ممبئی حملوں سے پاکستان کی حکومت یا اس کے خفیہ اداروں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

نومبر2008 کو بھارت کے اقتصادی مرکز پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں میں دو امریکیوں سمیت 166 افراد مارے گئے تھے اور امریکی شہریوں کے عزیزواقارب نے ایک امریکی عدالت میں پاکستان کے خفیہ ادارے کے موجودہ سربراہ لیفٹینینٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور سابق سربراہ جنرل ندیم تاج سمیت بعض پاکستانیوں کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور ان کے ایک وکیل جان کرینڈلر پراعتماد ہیں کہ وہ اپنے موکلین کے لیے لاکربی تنازعے کے حل کی طرز پر معاوضہ وصول کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

احمربلال صوفی کہتے ہیں کہ ایک وکیل کے اس اعتماد کی وجہ ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی معلومات، ڈیوڈ ہیڈلے کے بیانات، کسی ہیرنگ میں کسی کی شہادت یا اجمل قصاب کا بیان ہو سکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات قانونی طور پر کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور کیا انہیں عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فیصلے آگے چل کر ہو گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وکی لیکس میںبھارت میں امریکی سفارتخانے کے حوالے سے حالیہ کیبلز میں یہ بات کہی گئی ہے کہ پاکستان کی حکومت یا اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ممبئی حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔ شاید پاکستان بھی اس پہلو کو عدالت میں اجاگر کرے۔

واشنگٹن میں قائم تھنگ ٹینک یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹوٹ سے وابستہ تجزیہ کار معید یوسف کے بقول امریکی حکومت کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ پرائیویٹ پارٹی اس میں فریق ہے اور ہو سکتا ہے کہ امریکی حکومت نے پاکستان کو اس بارے وضاحت بھی کر دی ہو۔ تاہم ان کے خیال میں یہ مقدمہ اخباری اطلاعات پر مبنی ہے اور یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔

XS
SM
MD
LG