رسائی کے لنکس

وکیل استغاثہ نے کہا کہ ہزبائرامی نے پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ڈالر سے زائد رقم بھیجنے کا اعتراف کیا۔

نیویارک میں رہنے والے البانیہ کے ایک شخص کو دوسری مرتبہ اس اعتراف کے بعد قید کی سزا سنائی گئی ہے کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی۔

31 سالہ آگرون ہزبائرامی کو جمعرات کو امریکہ کی ضلعی عدالت نے بروکلن میں 16 سال قید کی سنائی ہے۔

وکیل استغاثہ نے جمعرات کو کہا کہ ہزبائرامی نے پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ڈالر سے زائد رقم بھیجنے کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نے پاکستان میں کسی شخص کے ساتھ ای میل کا تبادلہ کیا تھا جس نے اپنے آپ کو ایک باغی گروپ کا رکن بتایا تھا اور امریکی فوجیوں کو قتل کیا تھا۔

بیان کے مطابق ایک ای میل میں ہزبائرامی نے جہادیوں کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک سفر کرنا چاہتا ہے اور شہید کی موت مرنا چاہتا ہے۔

ہزبائرامی کو ستمبر 2011 میں ترکی کا یک طرفہ ٹکٹ خریدنے کے بعد جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ اس نے 2012 میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے مقدمہ لڑا اور اسے ایک شدت پسند تنظیم میں شامل ہونے کے لیے پاکستان سفر کرنے کی کوشش کے جرم میں 15 سال قید کی سزا ہوئی۔

جب وہ جیل میں تھا تو وفاقی حکومت نے بتایا کہ نگرانی کے پروگرام کے ذریعے اس کے خلاف کچھ شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ اس نے اپنی درخواست واپس لے لی اور جج سے کہا کہ اس کے خلاف شواہد بغیر وارنٹ کے اکٹھے کیے گئے۔

وفاقی جج نے اس کی درخواست مسترد کر دی جس کے بعد اس نے جون میں ایک مرتبہ پھر اعتراف جرم کرتے ہوئے اس شرط پر مقدمہ لڑا کہ ایسی صورت میں کہ اپیل کرنے پر عدالت نے ان شواہد کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تو اس کا اعتراف جرم بھی کالعدم ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG