رسائی کے لنکس

نیویارک کی مساجد میں اسلامی عقائد سے آگاہی کی مہم


نیویارک کی مساجد میں اسلامی عقائد سے آگاہی کی مہم

نیویارک کی مساجد میں اسلامی عقائد سے آگاہی کی مہم

نیو یارک کے ٹائمز سکوئر میں ایک پاکستانی نوجوان کی جانب سے بم دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش اور گراؤنڈ زیرو کے قریب اسلامی کمیونٹی سنٹر کی تعمیر کی اطلاع کے بعد سے میڈیا میں پھیلی بظاہر مسلم مخالف خبروں کا توڑ کرنے کے لیے نیو یارک کی مجلس شورٰی نے غیر مسلموں کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا۔

بے شور نیو یارک میں واقع مسجد دارالقران ان مساجد میں شامل تھی جنہوں نے نہ صرف اپنے دروازے اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے لیے کھول دیے تھے بلکہ انہیں خاص طور پر مسجد میں دعوت دی تھی۔ ان کے مہمانوں میں بیبے لون نیو یارک سے آئی الزبتھ ایرکس بھی شامل تھیں جنہیں اس تقریب کے بارے میں مقامی اخبار میں چھپنے والے دعوت نامے کے ذریعے خبر ہوئی تھی۔

ان کا یہ کسی مسجد میں جانے کا پہلا تجربہ تھا اور یہاں لوگوں کی باتیں سننے کے بعد ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کے خیالات بھی انہی سے ملتے جلتے ہیں اور اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔

پورے ہفتے نیو یارک کی مختلف مساجد میں اسی نوعیت کی مختلف تقاریب میں غیر مسلم امریکیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو قریب سے نماز پڑھتے، جمعے کا خطبہ سنتے اور دیگر مذہبی عقائد پورے کرتے دیکھ سکیں۔

ان تقاریب کا سب سے اہم حصہ تھا سوال و جواب کے وہ سیشن جن میں غیر مسلموں نے مسلمانوں سے ان کے عقائد یا مذہبی رسومات کے بارے میں سوال کیے یا مسلمانوں کے بارے میں اپنے خدشات بیان کیے اور مسلم راہنماؤں کو ان کے جواب دینے کا موقع ملا۔

دہشت گردی، خواتین کے حقوق، یہاں تک کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد تک اس گفتگو کا موضوع بنے۔

اکثر امریکیوں کو خوشی تھی کہ انہیں اسلام کو سمجھنے کا موقع دیا جا رہا ہے اور کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان تقاریب نے ان کی معلومات میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان تقاریب میں مقامی سیاسی راہنماؤں کو بھی دعوت دی گئی تھی تاکہ انہیں نہ صرف مسلمانوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے بلکہ وہ مسلمانوں کو سیاسی ووٹ بینک کے طور پر بھی اہمیت دیں۔

اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ اس قسم کی تقریبات ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG