رسائی کے لنکس

مقامی کاؤنٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق بچہ کی ماں کو ڈھونڈا جا چکا ہے جس سے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ جبکہ بتایا گیا ہے کہ واقعہ کو قتل کی واردات کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔

چین کے مشرقی صوبے جے جیانگ میں فائر بریگیڈز کے عملے نے ایک نوزائیدہ بچے کو گٹر کی تقریبا 3 انچ چوڑئی پائپ لائن کے اندر سے زندہ بچا لیا ہے ذرائع کے مطابق بچے کو باتھ روم کے کموڈ میں ڈال کر بہا دیا گیا تھا۔
چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق،اس واقعہ پر عوام کی جانب سے سوشل ویب سائٹس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
موجودہ واقعہ جنہوا کی ایک رہائشی عمارت میں ہفتے کے روز پیش آیا جہاں کے رہنے والوں نے مقامی ریسکیو کو اطلاع کی کہ انھیں عمارت کے سیورج سسٹم کے پاس بچے کے رونے کی آواز آرہی ہے ۔
​خبر کے مطابق فائر برگیڈ کا عملہ اگرچہ موقع پر بچے کوپبلک باتھ روم کی سیوریج کی ایل شکل کی پائپ لائن کے اندر سے نہیں نکال سکا جس میں بچہ پھنسا ہوا تھا لیکن دو گھنٹے کی کوششوں کے بعد پائپ لائن کے مطلوبہ حصے کو کاٹ کر قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پائپ لائن کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر علیحیدہ کیا اور بچے کو زندہ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔
چینی پریس ایسوسی ایشن کے مطابق بچے کو 59 نمبر سے پکارا جا رہا ہے جو بچےکے انکیو بیٹر کا نمبر ہے ۔
مقامی کاؤنٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق بچہ کی ماں کو ڈھونڈا جا چکا ہے جس سے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ جبکہ بتایا گیا ہے کہ واقعہ کو قتل کی واردات کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔
برطانوی روزنامے ڈیلی میل سے پییو جیانگ کاؤنٹی ہسپتال کی بچہ وارڈ کی نرس جانگ سونگہی نے بات کی ہے جن کا کہنا ہے کہ، ’جس وقت بچے کو ہسپتال لایا گیا تھا تب اس کی حالت تشویشناک تھی بچے کی کھوپڑی کے داہنی اوپری حصے پر فریکچر آئے تھے لیکن اب بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘
نرس نے بتایا کہ، ’بچہ کی ماں ایک 22 سالہ سنگل مدر ہے جو اس وقت بچے کے ساتھ ہی موجود ہے لیکن واقعہ کی اصل وجہ اب تک معلوم نہیں ہوئی ہے ۔'
نرس کا کہنا تھا کہ، ’لوگ ہسپتال میں بچے کے لیے کپڑے، کھلونے، دودھ اور ڈائپر لے کر آرہے ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد بچے کو گود لینے کے خواہش مند ہیں۔‘
چین حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا سخت قانون موجود ہے جس میں صرف ایک بچے کی پالیسی کو اپنایا گیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے ۔
چین کے میڈیا کی جانب سے اگرچہ اس قسم کی خبریں آتی رہی ہیں جن میں نوزائیدہ بچوں سےان کی کم عمر مائیں اکثر جان چھڑا لیا کرتی ہیں ایسے نوزائیدہ بچوں میں عام طور پر لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
واقعہ کی دو گھنٹے کی ٹی وی فوٹیج کو انٹرنیٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ جس پر پردنیا بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG