رسائی کے لنکس

نیویارک کا پنسلوانیا ریلوے اسٹیشن: عدم سے پھر وجود کی جانب

  • کیرولین ویور
  • عمیر ریاض

New York's original Pennsylvania Station

New York's original Pennsylvania Station

قدیم پین اسٹیشن کی عمارت رومن طرزِ تعمیر کی حامل تھی اور اس کی تعمیر میں ماربل اور گلابی گرینائٹ پتھر استعمال کیا گیا تھا۔

آج سے ٹھیک ایک صدی قبل نومبر 1910 کے ایک روز نیویارک کے پنسلوینیا اسٹیشن کا باقاعدہ افتتاح ہوا اور اس نئے عالیشان اسٹیشن پر پہنچنے والی پہلی ریل کےمسافروں نے دریائے ہڈسن پار کرکے مین ہٹن میں قدم رکھا۔ مین ہٹن کے وسط میں قائم قدیم و جدید طرزِ تعمیر کا شہکار قرار دی جانے والی اسٹیشن کی یہ نئی عمارت آنے والے پچاس برسوں تک مسافروں کی میزبانی کرتی رہی تاوقتیکہ اسے نئی تعمیرات کیلئے ڈھا نہ دیا گیا۔

موجودہ پین اسٹیشن زیرِ زمین واقع ہے اور اس کی موجودہ اور سابقہ عمارات کے درمیان محض نام اور جگہ کے علاوہ کچھ بھی مشترک نہیں رہا۔

فنِ تعمیر کے تاریخ دان ونسنٹ اسکلی نے نیویارک کے قدیم پینسلوینیا اسٹیشن کی وسیع و عریض عمارت او ر960 ءمیں اس کی جگہ لینے والے تنگ اور قدرتی روشنی سے محروم زیرِ زمین اسٹیشن کا تقابل کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا، "ایک وقت تھا کہ ہم اس شہر میں دیوتاؤں کی طرح داخل ہوا کرتے تھے اور اب یہ وقت ہے کہ ہم اس میں چوہوں کی طرح بلوں میں رینگتے ہوئے آتے ہیں"

قدیم پین اسٹیشن کی عمارت رومن طرزِ تعمیر کی حامل تھی اور اس کی تعمیر میں ماربل اور گلابی گرینائٹ پتھر استعمال کیا گیا تھا۔ اس پرشکوہ عمارت کے نقشہ ساز چارلس مک کِم تھے۔ 1910ء میں اس اسٹیشن کے افتتاح کے روز یہاں آنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ تھی۔

دی لیٹ، گریٹ پنسلوانیا اسٹیشن" کے نام سے اس قدیم ٹرمینل کی تاریخ کتابی صورت میں مرتب کرنے والے لورین ڈیہل نے 1950 کے عشرے میں اپنے بچپن کے دن اس اسٹیشن کی وسیع وعریض راہداریوں میں کھیلتے کودتے گزارے تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ماضی کے اس تجربے کے بارے میں ان کا کہنا تھا، "اس اسٹیشن کا ہر ہر گوشہ آپ کی تخیل کو نئی پرواز دیتا تھا۔۔۔ جب آپ ایٹتھ ایونیو کی جانب سے یہاں داخل ہوتے تھے تو وہاں ایک بڑی سی شیشے کی چھت تھی جس کے نیچے ریل گاڑیاں آکر ٹہرا کرتی تھیں۔ یہ چھت بڑے بڑے آہنی ستونوں پر ٹہری ہوئی تھی۔ شیشے کی اس چھت سے چھن کر نیچے آتی دھوپ میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات فضا میں ٹہرے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا کہ یہ جگہ ایک مرکز ہے جہاں سے مختلف سمتوں میں شاہراہیں نکلتی ہیں اور مسافر اپنا اپنا سفر آغاز کرتے ہیں۔ قبل اس کے کہ آپ اپنی منزل کیلئے کوئی ٹرین پکڑیں، اس منظر کے زیرِ اثر آپ کا ذہن پہلے ہی ایک سفر پر نکل پڑتا تھا"۔

اسٹیشن کی قدیم عمارت کی آرائش عقابوں اور عورتوں کے مجسموں سے کی گئی تھی۔ ایک مسافر دن کی مصروفیت بیان کرتا تھا اور دوسرا اس کی راتوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ان مجسموں میں سے بہت سوں کی تصویر کشی نیو یارک ہی کے رہائشی ایک فن کار اور مصنف ولیم لو نے اپنی تصویری کتاب میں کی ہے۔ ولیم لو نے خود کبھی اس اسٹیشن کا نظارہ نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے اس دور میں لی گئی بلیک اینڈ وھائٹ تصاویر اور دیگر دستاویزات کی مدد سے ان مجسموں کی تصویر کشی کرڈالی۔

ولیم لو کا کہنا ہے کہ، "یہ سب بہت متاثر کن تھا۔ بالکل ایسا ہی جب میں نے پہلی بار گرینڈ کینین کو دیکھا تھا۔ ایک انتہائی وسیع و عریض جگہ، جسے آپ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے"۔

لو نے اپنی کتاب میں کمپیوٹر کے ذریعے تیار کی گئی تصاویر کی مدد سے قدیم اسٹیشن کی تعمیر، وہاں روز مرہ زندگی کی چہل پہل اور بعد ازاں اس کے انہدام کے مختلف مرحلوں کو بیان کیا ہے۔ ان تصاویر میں اسٹیشن کی زندگی کے مختلف عکس ملتے ہیں: شیشے اور اسٹیل کی چھت تلے رات کے اوقات میں مسافروں کا ہجوم، اسٹیشن میں قائم ریستوران اور دونوں جانب دکانوں والی گزرگاہ اور ماربل کے گنبد تلے قائم انتظار گاہ۔۔ جس کے بارے میں ناول نگار تھامس وولف نے لکھا تھا "اتنی وسیع کہ وقت کی رفتار تھم جائے، نیم خوابیدہ اور سرگوشیوں سے دائم مامور"

ان تصویروں میں سے ایک جنگِ عظیم دوم سے لوٹنے والے ان سپاہیوں کی ہے جنہیں وطن واپسی پر نیو یارک کے باسیوں نے گھیررکھا ہے۔

لورین ڈیہل کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں تھامس وولف نے جس شے کو بیان کیا ہے درحقیقت وہ تاریخ کی وہ خوبصورت ملمع کاری تھی جو اب اپنا وجود کھو بیٹھی ہے۔ ان کے الفاظ میں "جب یہ اسٹیشن ختم کیا گیا تو ہم محض ایک خوبصورت ریل اسٹیشن سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ ہم نے خود کو اپنے ماضی سے جدا کرلیا۔ ہم اپنی تاریخ کھو بیٹھے۔ گریٹ ڈپریشن، دو عالمی جنگوں، لاتعداد لوگوں کے منہ سے ادا ہونے والے 'ہیلو' اور 'گڈ بائے' سے منسلک تاریخ!!"

1960ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اس اسٹیشن کے 'پنسلوینیا ریل روڈ کمپنی' نامی مالک ادارے کو مالی خسارے کے باعث شدید بحران کا سامنا تھا۔ نتیجتاً کمپنی نے اسٹیشن کے سطحِ زمین کے اوپر واقع حصے کو ایک ایسے تعمیراتی ادارے کو فروخت کردیا جو وہاں کھیلوں کا ایک بڑا مرکز قائم کرنا چاہتا تھا۔ آج 'میڈیسن اسکوائر گارڈن' نامی کھیلوں کے اس مرکز کی چہار جانب سے برقی بل بورڈز سے آراستہ اور ایک سیمنٹ مکسر کی ہیئت جیسی موجودہ عمارت کے نیچے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اور شاندار ریلوے اسٹیشن دفن ہے۔

1963ء میں پین اسٹیشن کی عمارت کے انہدام کے خلاف آواز اٹھانے والے صرف چھ نقشہ ساز تھے جنہوں نے اس فیصلے کے خلاف اسٹیشن کے باہر احتجاجی جلوس نکالا تھا تاہم اس سے فیصلہ سازوں کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگی۔

لورین ڈیہل کہتے ہیں کہ اس وقت کوئی بھی فرد عمارتوں کی جاذبیت کے حوالے سے انہیں اہمیت دینے کو تیار نہیں تھا۔ "لوگوں کی رائے میں اس عمارت میں محفوظ رکھنے کیلئے کچھ تھا ہی نہیں۔ ان کے خیال میں وہ عمارت ایک نجی ملکیت تھی باوجود اس حقیقت کے کہ ا س کا وجود عوامی استعمال کیلئے تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر وہ پین اسٹیشن کی عمارت ڈھا سکتے ہیں تو ایسا کرسلر بلڈنگ اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم رفتہ رفتہ اس عمل کے نقصانات واضح ہوتے چلے گئے اور بالآخر شہر کے تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی رہ ہموار ہوئی"

نیویارک لینڈ مارک کنزروینسی' نامی ایک نجی گروپ کے سربراہ پیگ برین کا کہنا ہے کہ نیو یارک کے پین اسٹیشن کی موجودہ شکل سے کوئی بھی شخص خوش نہیں۔ "حتی کہ وہ لوگ بھی جنہوں نے کبھی پین اسٹیشن کی اصل عمارت نہیں دیکھی تھی، اسے کھو دینے کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ شاید اسے نیویارک کی تعمیراتی تاریخ کا سب سے بڑا جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی خطا جس کا خمیازہ لوگ آج تک بھگت رہے ہیں"

1933ء سے پیگ برین کا گروپ پین اسٹیشن کی قدیم عمارت کے سامنے واقع 'فارلے پوسٹ آفس' کی پرانی عمارت کو ماضی کے اس تعمیراتی شاہکار کی صورت میں ڈھالنے کی مہم چلا رہا ہے۔ وہ اس عمارت کو آنجہانی سینیٹر ڈینیل پیٹرک مونی ہن سے منسوب کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے یہ خیال پیش کیا تھا۔ موجودہ پین اسٹیشن اور مستقبل میں اس کی جگہ لینے والی عمارت کو منسلک کرنے والے داخلی راستوں کی تعمیر کے ذریعے حال ہی میں اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ کا آغاز ہوا ہے۔

فارلے پوسٹ آفس کی عمارت کی لابی میں کھڑے پیگ برین کا کہنا ہے، "یہ عمارت 1912ء میں چارلس مک کیم نے تعمیر کی تھی۔ وہی چارلس مک کیم جو پنسلوینیا اسٹیشن کا نقشہ ساز تھا۔ پوسٹ آفس کی یہ عمارت درحقیقت سڑک پار موجود پین اسٹیشن کی جڑواں عمارت تھی اور یہ اس وقت بنائی گئی تھی جب عوامی مقامات عوام کی عزت افزائی کے نکتہ نظر سے ڈیزائن اور تعمیر کیے جاتے تھے۔ اس وقت جب آپ کسی عمارت میں داخل ہوتے تھے تو وہ آپ سے مخاطب ہوکر یہ کہتی تھی کہ 'یہ ایک عظیم شہر ہے اور آپ اس کے ایک اچھے باسی ہیں کیونکہ آپ اس خوبصورت جگہ پر موجود ہیں'۔ اور پین اسٹیشن کی موجودہ عمارت اس احساس سے عاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا یہ پروجیکٹ ہمیں اس احساس کے دوبارہ حصول میں مدد دے گا"۔

پیگ برین کا کہنا ہے کہ نئی عمارت سے ریل کی شمال مشرقی شاہراہ اور ملک کے سب سے مصروف ریل ٹرمینل تصور کیے جانے والے پین اسٹیشن پہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

موجودہ اسٹیشن کی نئی عمارت میں منتقلی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے جبکہ اس پورے عمل میں آٹھ سال کا عرصہ لگے گا۔ منصوبے کے حامیوں کا موقف ہے کہ اس منتقلی کے بعد بھی یہ اسٹیشن ماضی کی محض ایک دھندلی سی تصویر پیش کرنے کے قابل ہوپائے گا لیکن اس طرح ریل کے ذریعے نیویارک میں داخل ہونے والے مسافروں کو شہر میں داخلے کیلئے ایک خوبصورت دروازہ ضرور پیش کیا جاسکے گا۔

لورین ڈیہل پین اسٹیشن کے بارے میں اپنی دادی کے جذبات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں، "وہ بہت غریب تھیں اور وہ اس اسٹیشن سے شاید کبھی بھی کسی ٹرین میں سوار نہیں ہوئی ہونگی۔ تاہم ایک روز انہوں نے کہا تھا، 'تم جانتے ہو یہ اسٹیشن مجھے احساس دلاتا ہے کہ میں بہت اہم ہوں، کیونکہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسے میرے ہی لیے تعمیر کیا گیا ہے'۔ اور یہی درحقیقت اس اسٹیشن کی خاص بات تھی۔ یہ ایک ایسی عمارت تھی جس کی تعمیر ہر فرد کیلئے کی گئی تھی۔ چاہے آپ کے بینک اکاؤنٹ میں دس لاکھ بکس موجود ہوں یا آپ کی جیب میں محض چند سکے ہوں، یہ عمارت آپ کو اپنائیت کا ایک احساس دلاتی تھی اور آپ کو ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ آپ ہی کی ہو، آپ کی اپنی ذاتی، آپ کی اپنی ملکیت۔

XS
SM
MD
LG