رسائی کے لنکس

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اخبارات کے استحکام کے باعث نیوزی لینڈ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 131 برس تک کام کرنے کے بعد بدھ کو اپنے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر رہی ہے۔

1880ء میں قائم کی جانے والی ’نیوزی لینڈ پریس ایسوسی ایشن‘ اپنے قیام کے 100 برس مکمل ہونے تک خطے میں خبروں کا ایک اہم ترین ذریعہ بن چکی تھی۔

1980ء اور 1990ء کی دہائیاں ایجنسی کے عروج کا زمانہ تھا جب درجنوں صحافی ملک میں اور ملک سے باہر ایجنسی کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے جب کہ لندن، واشنگٹن اور سڈنی میں واقع ایجنسی کے دفاتر 70 سے زائد اخبارات کو خبریں فراہم کرتے تھے۔

تاہم ’این زی پی اے‘ کے ایڈیٹر کیون نارکوئے کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اخبارات کی مستحکم حیثیت نے ایجنسی کے اثر و رسوخ کو متاثر کیا ہے کیونکہ اخبارات نے خبروں کی فراہمی کے لیے اپنی ہی ٹیموں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی بندش کے امکانات رواں برس کے آغاز میں اس وقت ہی نمایاں ہو چلے تھے جب آسٹریلوی میڈیا گروپ ’فیئر فیکس‘ نے ایجنسی سے اپنا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ’این زی پی اے‘ کی بندش یہ ظاہر کرتی ہے کہ آسٹریلوی کمپنیاں نیوزی لینڈ کے کاروباری سیکٹر پہ حاوی ہوتی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG