رسائی کے لنکس

بائیں بازو کی انتہا پسندی ، دہشت گردی سےبھی بڑا خطرہ ہے: بھارتی وزیر داخلہ

  • سہیل انجم

بائیں بازو کی انتہا پسندی ، دہشت گردی سےبھی بڑا خطرہ ہے: بھارتی وزیر داخلہ

بائیں بازو کی انتہا پسندی ، دہشت گردی سےبھی بڑا خطرہ ہے: بھارتی وزیر داخلہ

بھارت کے مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے کہا ہے کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سےملک کو سب سے بڑا خطرہ ہے اور اِس وقت ہمیں جِن تحریکوں کا سامنا ہے اُن میں نکسلی انتہا پسندی’ سب سے زیادہ پُر تشدد ہے‘۔

اُنھوں نے ’نکسل گردی’ کو’ دہشت گردی‘ سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امسال دہشت گردی سے اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوئے جتنے کہ نکسلی تشدد سے مارے گئے ہیں۔

وزیر ِ داخلہ نئی دہلی میں نکسلی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کے لیے ترقیاتی اسکیٕموں سے متعلق ایک ورکشاپ کا افتتاح کر رہے تھے جِس میں متاثرہ علاقوں کے 60ضلع کلیکٹروں نے شرکت کی۔

اِس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اُنھوں نے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، اور کہا کہ وہ مرکز پر اپنی ذمہ داری نہ تھوپیں۔

یہ پہلا موقعہ ہے جب مرکزی حکومت نکسل گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور اسکیموں کے نفاذ کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیاہے۔

اعدادو شمار کی روشنی میں، پی چدم برم نے بتایا کہ رواں سال کے آٹھ مہینوں میں دہشت گردی کےواقعات میں 26سویلین ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ شمال مشرق میں شورش سے متعلق واقعات میں 46سویلین مارے گئے ہیں اور بھارتی کشمیر میں پُر تشدد واقعات میں 27افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گذشتہ سال نکسلی تشدد میں 297لوگ مار ے گئےتھے۔ إِسی طرح، نکسلی تشدد میں 105پولیس جوان ہلاک ہوئے ہیں اور دہشت گردانہ واقعات میں 50پولیس والے مارے گئے ہیں۔

اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ اِس مسئلے سے نمٹنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے باشندوں کے دل جیتے جائیں۔

XS
SM
MD
LG