رسائی کے لنکس

برطانیہ:مریضوں سے غفلت برتنے پر جیل کی سزا کا قانون


وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون

،نئے قانون کے تحت ڈاکٹرز، نرسوں اور این ایچ ایس کےمینجرز کو جرمانہ یا پانچ برس جیل کاٹنی پڑ سکتی ہے اگر وہ مریضوں سے جان بوجھ کر غفلت برتنے جیسے مجرمانہ فعل کے مرتکب پائے جائیں گے ۔

برطانیہ میں قومی ادارہ صحت کی نئی اصلاحات کے تحت مریضوں کے ساتھ جان بوجھ کر لاپرواہی برتنے یا نظر انداز کرنے کے رویے کو مجرمانہ فعل قرار دیا جائے گا اور مریضوں سے بد سلوکی کرنے کے جرم میں طبی عملے کوکم از کم پانچ سال جیل کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

برطانوی ٹی وی کے مطابق سری لنکا میں دولت مشترکہ کے اجلاس میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے آئندہ ہفتے برطانوی محکمہ صحت کی جانب سے 'این ایچ ایس' میں متعارف کرائے جانے والی نئی اصلاحات کے حوالےسے بتایا کہ قومی ادارہ صحت سے وابستہ ایسےکارکنان جو مریضوں کے ساتھ جان بوجھ کر برا سلوک کرتے ہیں یا ان سے غفلت برتتے ہیں انھیں سخت قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت ڈاکٹرز، نرسوں اور این ایچ ایس کےمینجرز کو جان بوجھ کر مریضوں سے غفلت برتنے جیسے مجرمانہ فعل کے مرتکب ہونے کی صورت میں جرمانہ یا پانچ برس جیل کاٹنی پڑ سکتی ہے۔

یہ اقدام مریضوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا جائزہ لینے والے ایک کمیشن کی مرکزی سفارشات کا حصہ ہے جومڈ اسٹیفورڈ شائراین ایچ ایس ٹرسٹ میں 1,200 سے زائد مریضوں کی اموات کے اسکینڈل کے تناظر میں تشکیل دیا گیا تھا ۔

جائزہ رپورٹ کی سربراہی امریکی صدر کے سابقہ مشیر ڈان بیرک کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ایسے کیسوں کو ہدف بنانے کی ضرورت تھی جن کی کم پرواہ کی گئی کیونکہ یہی رویہ آگے چل کر جان بوجھ کر غفلت برتنے اور بدسلوکی کی وجہ بنتا ہےجس کے باعث کئی قبل از وقت اموات واقع ہو جاتی ہیں ’’کبھی کبھی صرف پرواہ کافی نہیں ہوتی ہے۔‘‘

حکومت کی جانب سےاگست کے مہینے میں جائزہ رپورٹ شائع ہونے پر اس بات کا واضح اشارہ دیا گیا تھا کہ جلد ہی قومی ادارہ صحت میں اہم تبدیلیوں کا امکان ہے ۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’’این ایچ ایس ایسے شاندار ڈاکٹروں، نرسوں اور صحت کے کارکنوں سے بھرا پڑا ہے جنھوں نے ہمارے پیاروں کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں لیکن مڈ اسٹیفورڈ شائر اسپتال نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کبھی کبھی صرف معیاری دیکھ بھال کافی نہیں ہوتی ہے تاہم محکمہ صحت نے بڑی تعداد میں ایسے اقدامات کئےہیں جن سے مریضوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ قانونی اصلاحات کا مقصد این ایچ ایس سے وابستہ افراد کی غلطیوں کو گرفت میں لینا نہیں ہے بلکہ مریضوں سےمجرمانہ غفلت برتنے والوں کے لیے سزائیں مقرر کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم پھر کبھی ناقص دیکھ بھال اور غفلت کو ان دیکھا نہیں کر سکتے ہیں اور نا ہی ایسا رویہ رکھنے والوں کو سخت قانونی سزاوں سے بچنے دیں گے۔

ادھر میڈیکل ڈیفنس تنظیموں کا کہنا ہے کہ قومی ادارہ صحت کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پہلے سے کئی سزائیں موجود ہیں جن میں جرم ثابت ہونے پرلائسنس ضبط کرنا بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG