رسائی کے لنکس

نیاگرا فالز یوں تو قدرت کا ایک عجوبہ ہیں، لیکن اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں انسان بھی پیش پیش رہا ہے۔ اسی کی ایک مثال رات کے وقت نیاگرا فالز پر پڑنے والی وہ روشنیاں ہیں جو نیاگرا فالز کو مزید خوبصورت بناتی ہیں۔

درختوں کی اوٹ میں چھپتا، دن کے آخر میں اپنا سفر ختم کرتا ہواسورج ، صدیوں سے شاعروں اور مصوروں کا پسندیدہ منظر رہا ہے۔ مگر نیاگرا فالز میں شام اترنے کا منظر دیکھ کر آپ بھی یہ کہہ اٹھیں گے کہ یہ نظارہ کسی شاعر کے شعر اور مصور کی پینٹنگ سے بڑھ کر خوبصورت ہے ۔

اور سوچئیے شام کےان رنگوں میں اگر مصنوعی رنگ بھی شامل ہو جائیں تو کیسا ہو؟

آج سے ایک صدی پہلے نیاگرا فالز پر روشنیاں لگانے والوں نے غالبا یہی سوچا تھا ۔ اسی لیے آج نیاگرا فالز کا ایک اہم پہلو سورج کے ڈھل جانے کے بعد یہاں پر روشنیوں کا اہتمام ہے۔

نیاگرا فالز پر روشنیاں بکھیرنے والی اس عمارت کو الومینیشن ٹاور کہا جاتا ہے ۔پیٹرگورڈن یہاں کے لائیٹس آپریٹر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انیسویں صدی میں پہلی مرتبہ فالز پر روشنیاں ڈالنے کا اہتمام کیا گیا۔ لیکن اس وقت روشنی بہت ہلکی تھی۔ پھر 1924ء میں روشنیوں کے لیے موجودہ عمارت کا انتخاب کیا گیا۔ اور تقریبا 24لائیٹس لگائی گئیں۔ اس زمانے میں روشنی کے لیے کاربن پلیٹیں استعمال کی جاتی تھیں۔

پیٹرنے بتایا کہ ٹاور پر مختلف ادوار میں مختلف طرح کی روشنیوں کا استعمال کیا جاتا رہا۔ اور اب اس کام کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکن اور کینیڈین فالز کی روشنیوں کے لیے الگ الگ کمپیوٹر ہیں۔

پہلی مرتبہ غالباً 1957ء میں باقاعدہ طور پر ان روشنیوں میں مختلف رنگوں کے استعمال کا آغاز کیا گیا۔ اس سے پہلے لوگ مختلف رنگوں کے بڑے بڑے بورڈز ہاتھ میں پکڑتے تھے جنہیں روشنیوں کے آگے کیا جاتا تھا۔اب سب کچھ آٹومیٹک ہے۔

پیٹر 1961ء یعنی پچھلے51برسوں سے یہ کام کر رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ گزرے زمانے میں اس عمارت میں بہت تبدیلیاں لائی گئیں اور ابھی بھی نیاگرا فالز کو سیاحوں کے لیے مزید خوبصورت بنانے کی پلاننگ جاری ہے۔

موسم سردیوں کا ہو یا گرمیوں کا ، یہ رنگ برنگی روشنیاں سر ِ شام ہی سے فالز پر ڈالی جاتی ہے اور آپ آدھی رات تک نیاگرا فالز کو مختلف رنگوں میں ڈھلا دیکھ سکتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG