رسائی کے لنکس

ندا فاضلی بیمار نہیں تھے۔ بس سینے میں اچانک درد کی شکایت ہوئی تو اسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن، سوچ کے برخلاف، ان کا ہارٹ فیل ہوا اور ندا موت کے فرشتے کے ساتھ ہی ہو لئے۔۔اس لئے یہ خبر سب کو چونکا گئی

ممبئی کے باسی، نغمہ نگار اور ایک اچھے انسان۔۔ ندا فاضلی سے زندگی کا رشتہ کیا ٹوٹا؛ گویا، اردو شاعری کے دامن میں ٹکا ایک اور ستارہ نکل گیا۔ دنیا عشروں تک جس کے نغموں سے گونجتی رہی، وہ خود پیر 8 فروری کی صبح خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے کنارہ کش ہوگیا۔

ندا فاضلی بیمار نہیں تھے۔ بس سینے میں اچانک درد کی شکایت ہوئی تو اسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن، سوچ کے برخلاف، ان کا ہارٹ فیل ہوا؛ اور ندا موت کے فرشتے کے ساتھ ہی ہولئے۔۔ اس لئے، یہ خبر سب کو چونکا گئی۔

ندا فاضلی نے ریاست راجستھان کے شہر گوالیار میں 77سال پہلے سنہ 1938 میں زندگی کی پہلی اور ممبئی میں آخری سانس لی۔ ان کا اصل نام مقتدا حسن تھا۔ 1960ء میں ان کے والد کا انتقال ہوا تو باقی گھر والے پاکستان آبسے مگر ندا فاضلی اپنی زمین سے محبت کا رشتہ نہ توڑ سکے۔

ندا فاضلی نے ایک فلمی جریدے ’فلم فیئر‘ کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں فلمی نغموں کے لکھنے کی پہلی پیشکش فلم ’پاکیزہ‘ اور ’رضیہ سلطانہ‘ کے فلم ساز کمال امروہوی نے کی تھی۔ انہوں نے دھرمیندر اور ہیما مالنی کی فلم ’رضیہ سلطانہ‘ کے لئے دو گانے لکھنے کی آفر ہوئی تھی۔ پھر اس کے بعد تو گویا پوری فلم انڈسٹری کے لوگ انہی سے رجوع کرنے لگے۔

”تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے ۔۔۔“ اور ”کہیں کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔“جیسے شاندار گیت ندا فاضلی نے ہی تخلیق کئے۔ اس دور سے لیکر آج تک کے متعدد مقبول موسیقاروں، گلوکاروں اور گیت کاروں کے ساتھ کام کیا جن میں خیام، آر ڈی برمن، لتا منگیشکر اور ان جیسے بے شمار نامور لوگ۔

سنہ 80 کی دہائی کے آتے آتے وہ فلمی نغموں کے ساتھ ساتھ غزلوں کی دنیا میں بھی اپنے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ گئے۔

جگجیت سنگھ بھارت کے سرفہرست غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے ندا فاضلی کی بے شمار غزلوں کو اپنی آواز دی۔ جگجیت کی عادت تھی وہ غزل شروع کرنے سے پہلے اکثر غزل کے شاعر کا نام ضرور لیا کرتے تھے، خاص کر جبکہ غزل ندا فاضلی نے لکھی ہو۔ اس بہانے جگجیت کے جتنے بھی چاہنے والے تھے انہیں ندا فاضلی کا نام ازبر ہوگیا تھا۔

ندا فاضلی نے پانچ شعری مجموعے تخلیق کئے جن میں ’لفظوں کے پھول‘، ‘مور ناچ‘ اور ’دنیا ایک کھلونا ہے‘ نے خوب شہرت حاصل کی۔ ندا نے ’دوہے‘ بھی تحریر کیے مگر اردو زبان کے بجائے ہندی زبان میں۔ ندا کو اردو اور ہندی کے بعد جس زبان پر عبور حاصل تھا وہ انگریزی تھی۔ وہ انگریزی لٹریچر کے طالب علم بھی رہے تھے۔

ندا فاضلی کو پدم شری ایوارڈ دیا گیا اور 1998 میں نظم 'کھویا ہوا سا کچھ' پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ عطا کیا گیا، جبکہ میر تقی میر ایوارڈ کے لئے بھی انہی کو چنا گیا۔

XS
SM
MD
LG