رسائی کے لنکس

نائجر: بوکو حرام کی پُر تشدد کارروائیاں، لاکھوں افراد بے دخل


فائل

فائل

یہ معدنی تارکول کا علاقہ ہے جہاں سخت گرمی پڑتی ہے؛ دوسری جانب بوکو حرام کی پُرتشدد کارروائیاں ہیں۔ یہاں، نائجیریا کے مہاجرین بھی آباد ہیں، جو نائجر کے بے دخل لوگوں کے ساتھ والے خیموں میں رہتے ہیں۔ یہ مختلف لوگ ہیں، جنھیں بوکو حرام سے خطرہ ہے

مشرقی نائجر میں ہزاروں لوگ اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوکر اب ملک کے مشرقی علاقے، دفعہ میں مقیم ہیں۔ یہاں کئی مقامات پر خیمہ بستیاں قائم ہیں جو ملک کے کلیدی ہائے وے ’آر این ون‘ کے دونوں اطراف واقع ہیں۔ گرمی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ معدنی تارکول کا علاقہ ہے، جہاں سخت گرمی پڑتی ہے، تو دوسری جانب بوکو حرام کی پُرتشدد کارروائیاں ہیں۔

یہاں، نائجیریا کے مہاجرین بھی آباد ہیں، جو نائجر کے بے دخل لوگوں کے ساتھ والے خیموں میں رہتے ہیں۔ یہ دو مختلف لوگ ہیں، جنھیں بوکو حرام سے خطرات لاحق ہیں۔

متارا کدوگو کا تعلق نائجیریا سے ہے وہ اپنا گاؤں چھوڑ کر آٹھ بچوں کے ہمراہ یہاں پہنچی ہیں، جہاں نگورتا کیمپ میں کسی قدر حفاظت کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

اپنی داستان سناتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’جمعرات کا دِن تھا، اور رات کے ڈھائی بجے تھے۔ بوکو حرام والے گاؤں پہنچے اور لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’’ہر کوئی اپنی جان چھڑانے میں لگ گیا۔ لوگ بغیر کپڑوں اور پاؤں میں جوتوں کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے ایک بچے کو چھاتی سے لگایا اوردوسرے کو گھسیٹا اور چل پڑی۔ ایک بچہ پیچھے آیا‘‘۔

کیمپ کے دیگر حضرات کی بھی اسی طرح کی دل خراش کہانی ہے۔ اور نائجر فوج کا پہرہ ہو تب بھی بے دخل افراد اور مہاجرین سہمے ہی رہتے ہیں۔ عام زندگی مشکل تر ہو کر رہ گئی ہے۔

خوراک کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے۔ گذشتہ برس، اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، علاقے کی فصلوں سے مقامی ضروریات پوری ہونا بھی دشوار ہے، جب کہ 10000 ٹن اناج کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے بتایا ہے کہ بے دخل ہونے والوں کی امداد ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ وہ 30 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں، کسی ایک کیمپ تک محدود نہیں رہے۔

امداد سے وابستہ اہل کاروں کو بھی صحیح علم نہیں کہ کُل کتنی آبادی ہے، اُن کی ضرورتیں پوری کرنا تو درکنار۔

کارل اسٹائنکر اقوام متحدہ کے نائجر کے نمائندے ہیں۔ بقول اُن کے، ’’ہمیں پتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کے پاس اپنے شناختی کارڈ تک نہیں ہیں۔ یہ کہنا انتہائی مشکل کام ہے کہ اُن کا تعلق کس علاقے سے ہے۔ لیکن، اس وقت نائجیریا کے مہاجرین کے مقابلے میں بے دخل ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

دفعہ کے علاقے کی کُل آبادی کا اندازہ 700000 ہے جس میں 10000 نائجیریائی مہاجرین شامل ہیں۔

ذرائع نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’اِن میں سے کم از کم نصف لوگ اندرونی طور پر بے دخل ہوئے ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG