رسائی کے لنکس

نائجیریا:13 سالہ لڑکی کے ساتھ سینیٹر کی شادی کی چھان بین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حقوقِ نسواں کی تنطیموں نے49 سالہ سینیٹر احمد ثانی یریما پر الزام عائد کیاہے کہ اُس نے بچّوں کے حقوق سے متعلق نائجیریا کےقانون کی خلاف ورزی کی ہے

نائجیریا کی سینیٹ نے اس بارے میں الزامات کی چھان بین شروع کردی ہے کہ اُس کے ایک رُکن نے غیر قانونی طورپر ایک 13 برس کی لڑکی کے ساتھ شادی کرلی ہے۔

حقوقِ نسواں کی تنطیموں نے 49 سالہ سینیٹر احمد ثانی یریما پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے بچّوں کے حقوق سے متعلق نائجیریا کے اُس قانون کی خلاف ورزی کی ہے ، جس میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کی گئى ہے۔

ان تنظیموں نے سینیٹ کے ارکان سے چھان بین کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے اس ہفتے پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا، جس میں انہوں نے یریما کے استعفے اور اُس پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یریما نے اس ہفتے جو انٹرویو دیے ہیں، اُن میں اُس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ لڑکی کی عمر 13 سال ہے۔ لیکن اُس نے یہ کہتے ہوئے اُس کی صحیح عمر بتانے سے بھی انکار کردیا کہ اس طرح اُس کے نجی معاملات میں رازداری کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

سینیٹر نے نائجیریا کے اخبار ڈیلی ٹرسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے وہ جن قوانین پر عمل کرتا ہے وہ صرف اسلامی قوانین ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اُس لڑکی کا تعلق مصر سے ہے۔ اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یریما نے مصر میں لڑکی کے خاندان کو ایک لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

یریما، نائجیریا کے صوبے زمفارا کا سابق گورنر ہے ، جو اُن 12 شمالی صوبوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 2000 ء شرعی قوانین نافذ کردیے تھے۔

شمالی نائجیریا میں مسلمان اکثریت میں ہیں جبکہ جنوب میں عیسائیوں کا غلبہ ہے۔

XS
SM
MD
LG