رسائی کے لنکس

مقامی حکام کے مطابق، دو عدد دھماکے زاریا شہر کی کلیساؤں میں ہوئے، جب کہ تیسرا دھماکہ قدونہ شہر کی ایک چرچ میں ہوا

شمالی نائجیریا میں کلیساؤں میں ہونےوالے دھماکوں کےنتیجے میں 21افراد ہلاک اور کم از کم 100زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے ریاست قدونہ میں واقع ہوئے جو شمال کے اکثریتی مسلمان اور جنوبی علاقے میں آباد عیسائی آبادی کو منقسم کرتی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق، دو عدد دھماکے زاریا شہر کی کلیساؤں میں ہوئے، جب کہ تیسرا دھماکہ قدونہ شہر کی ایک چرچ میں ہوا۔

ایک عینی شاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قدونہ شہر پر حملے کے بعد سینکڑوں افراد نے توڑ پھوڑ کی، لیکن پولیس کے موقع پر پہنچ جانے سے حالات پر قابو پالیا گیا۔ گورنر پیٹرک ابراہیم یکووا نے 24گھنٹوں تک کےلیےکرفیونافذ کر دیا ہے۔

حکام نے فوری طور پرمشتبہ افراد کےنام ظاہر نہیں کیے۔ اِسی طرح کے حملوں میں بوکو حرم کےسخت گیر اسلام پرست فرقےکو مورد ِالزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔
زاریا کے ایک باسی جنھوں نے وائس آف امریکہ کی ہوسا سروس کو اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کا ہمسایہ ہلاک ہوگیا ہے۔

اُس شخص کے بقول، اِن واقعات کے ذمہ داروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا اِسے بند کرو، اور برائے کرم، حکومت سے بات کرو۔
بوکو حرم نے پچھلے دو اتواروں کو کلیساؤں پر کیے جانے والےحملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جِن میں 18افراد ہلاک ہوئے۔
عسکریت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ وہ نائجیریا میں سخت گیر اسلامی ریاست کےقیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ ملک کی حکومت یا آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔

ملک کی پندرہ کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں اور عیسیاؤں کی تعدادمساوی ہے۔

XS
SM
MD
LG