رسائی کے لنکس

نائجیریا: بوکو حرام کا صفایا، فوج کو تین ماہ کا ہدف


فائل

فائل

صدر محمدو بوہاری نے یہ بات جمعرات کو ابوجہ میں تقریر کرتے ہوئے کہی، جس تقریب میں اُنھوں نے فوج کے چار نئے سربراہوں سے عہدوں کا حلف لیا۔۔ اُنھوں نے اپنے نئے فوجی سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح رہزنی اور اغوا کاری کا بھی خاتمہ لایا جائے

نائجیریا کے صدر نے فوج کو تین ماہ کے اندر اندر بوکو حرام کی بغاوت کا قلع قمع کرنے کے باضابطہ احکامات صادر کیے ہیں۔

صدر محمدو بوہاری نے یہ بات جمعرات کو ابوجہ میں تقریر کرتے ہوئے کہی، جس تقریب میں اُنھوں نے فوج کے چار نئے سربراہوں سے عہدوں کا حلف لیا۔

انتیس مئی کو عہدہ سنبھالنے کے بعد، صدر نے بَری، بحری، فضائیہ کے سربراہ اور اپنے چیف آف اسٹاف کا تبادلہ کیا، جس کا مقصد بوکو حرام کے خلاف لڑائی میں تیزی لانا ہے۔

جب سے مسٹر بوہاری نے عہدہ سنبھالا ہے، شدت پسندوں نے چھاپوں اور خودکش حملوں میں نائجیریا کے تقریباً 1000 افراد کو ہلاک کیا ہے۔
مسٹر بوہاری نے اپنے نئے فوجی سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح رہزنی اور اغوا کاری کا بھی خاتمہ لایا جائے۔

بقول اُن کے، ’آپ کو چاہیئے کہ آپ عمل داری کے دیگر حصہ داروں کے ساتھ مل کر بہتر رابطہ کاری اور مشترکہ کوششیں کریں، جس کی مدد سے تین ماہ کے اندر اندر اس طرز کی بغاوت کی روک تھام کی جائے اور خواہش کردہ نتائج برآمد ہوں‘۔

سابق صدر گُڈلَک جوناتھن کی سربراہی میں بوکو حرام کی چھ سالہ بغاوت کو ختم کرنے میں ناکامی پر اُس وقت کی حکومت پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ یہ ٹولہ، جس نے حالیہ دِنوں کے دوران داعش کے شدت پسند گروہ سے وفاداری کا حلف لیا ہے، اب تک نائجیریا کے10000 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے، جس کا مقصد شمالی نائجیریا میں سخت گیر شرعی قانون کی حکمرانی لانا ہے۔

بوکو حرام سے نبردآزما ہونے کی غرض سے، توقع ہے کہ بہت جلد، نائجیریا اور اُس کے چار قریبی ہمسایہ ملک شاڈ، کیمرون، نائجر اور بینن 8000 سے زائد فوج کو تعینات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG