رسائی کے لنکس

نائجیریائی صدر محمدو بوہاری نے کہا ہے کہ بوکو حرام سے نبردآزما ہونے کے لیے بننے والی ٹاسک فورس کی کمان اُن کے ملک کو سنبھالنی چاہیئے، کیونکہ زیادہ فوجیوں کا تعلق اُن کے ملک سے ہوگا، جب کہ میدان جنگ بھی نائجیریا کی ہی سر زمین ہوگی

نائجیریا اور چار ہمسایہ ممالک کے سربراہان نے جمعرات کے روز ملاقات کی، جس میں مجوزہ مشترکہ فورس تشکیل دینے سے متعلق بات چیت ہوئی، جو مذہبی انتہاپسند، بوکو حرام گروپ سے نبردآزما ہوگی۔

اپنے ابتدائی کلمات میں، نائجیریائی صدر محمدو بوہاری نے کہا ہے کہ اس ٹاسک فورس کی کمان اُن کے ملک کو سنبھالنی چاہیئے، کیونکہ زیادہ فوجیوں کا تعلق اُن کے ملک سے ہوگا، جب کہ میدان جنگ بھی نائجیریا کی ہی سر زمین ہوگی۔


اُنھوں نے کہا کہ یہ تجویز کہ ہر چھ ماہ بعد اس فورس کی کمان دوسرے ملک کو تبدیل کی جائے درست نہ ہوگی، کیونکہ بقول اُن کے، اس سے ٹاسک فورس غیرمؤثر ہوجائے گی اور اس کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

مسٹر بوہاری نے عہد کیا کہ 10کروڑ ڈالر فراہم کریں گے، تاکہ اگلے ماہ سے اس فورس کا افتتاح ہو۔

یہ اجلاس نائجیریا کے دارلحکومت، ابوجا میں ہوا، جس میں شرکت کرنے والوں میں چاڈ، نائجر اور بینن کے صدور اور کیمرون کے وزیر دفاع نے شرکت کی۔


چاڈ، نائجر اور کیمرون نے اس سال کے اوائل میں فوجیں تعینات کی ہیں، جس پر نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے دہشت گردی کا ایک سلسلہ دیکھا گیا۔

اس کے نتیجے میں چھڑنے والی لڑائی میں بوکو حرام کے زیر قبضہ زیادہ تر علاقہ اُن سے چھن گیا۔ تاہم، بورنو ریاست کے دارلحکومت، میدوگری اور دیگر مقامات پر از سر نو حملے شروع ہوئے۔

XS
SM
MD
LG