رسائی کے لنکس

نائیجیریا: بعد ازا نتخابات پرتشدد واقعات میں800ہلاکتیں


نائیجیریا: بعد ازا نتخابات پرتشدد واقعات میں800ہلاکتیں

نائیجیریا: بعد ازا نتخابات پرتشدد واقعات میں800ہلاکتیں

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ نائیجیریا میں ہونے والے انتخابات کے بعد پرتشدد واقعات میں آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعات صدر گُڈلک جوناتھن کے دوبارہ انتخاب کے موقع پر رونماہوئے تھے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کا پیر کے روز کہنا تھا کہ نائیجیرین حکام تشدد کے ان واقعات کو روکنے میں ناکام رہے اور تنظیم کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں پر مقدمہ چلایا جائے۔

گروپ کے مطابق اس کے پاس وہ دستاویزات موجود ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ پولیس اور فوج نے ہنگاموں اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے اضافی قوت استعمال کی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جنوبی ریاست کادونا میں مسلم اور عیسائی برادری کے رہنماؤں نے گروپ کو بتایا کہ ان پرتشدد واقعات میں پانچ سو سے زائد افراد مارے گئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

مسٹر جوناتھن نے ہلاکتوں کی تعداد،ان واقعات کے محرکات اور ان سے بچاؤ کی تدبیر جاننے کے لیے ایک پینل تشکیل دیا ہے۔

تشددکے یہ واقعات زیادہ تر ملک کے مسلم اکثریتی آبادی والے شمالی حصے میں اس وقت پیش آئے جب 16اپریل کویہ اعلان سامنے آیا کہ نائیجیریا کے جنوب سے تعلق رکھنے صدر جوناتھن، جو کہ عیسائی ہیں، دوبارہ صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

مسٹر جوناتھن نے شمالی حصے سے تعلق رکھنے والے اپنے مسلمان حریف سابق فوجی حکمران محمدبوہاری کو شکست دی تھی جسے بوہاری نے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کی جماعت کانگریس فار پروگریسو چینج نے انتخابی عمل کو ناقص قرار دے کر عدالت سے کہا تھا کہ وہ بعض نتائج کو کالعدم قرار دے دے۔

نائیجیریا کی آبادی تقریباًچودہ کروڑ ہے اور غیر محتاط اندازوں کے مطابق ان میں مسلمان اور عیسائی آبادی تقریباً برابر ہے۔

XS
SM
MD
LG