رسائی کے لنکس

نائجیریا: باغیوں سے نمٹنے کے لیےبڑی تعداد میں فوج روانہ


نائجیریا کی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئےکہا کہ، ’ملک کے سرحدی علاقوں میں واقع دہشت گرد ٹھکانوں کا صفایا کرنے کی غرض سے کارروائی پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے‘

نائجیریا کا کہنا ہے کہ اسلامی باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل صدر نے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے۔

نائجیریا کی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئےکہا کہ، ’ملک کے سرحدی علاقوں میں واقع دہشت گرد ٹھکانوں کا صفایا کرنے کی غرض سے کارروائی پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے‘۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران ’بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور وسائل‘ کا استعمال عمل میں لایا جائے گا۔

نائجیریا کے اخبارات نے خبر دی ہے کہ تقریباً 2000فوجی جنھیں جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے ’بورنو‘ نامی ریاست پہنچے، جب کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یوبے اور آدموا کی قریبی ریاستوں میں فوجوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

منگل کے روز صدر گُڈلک جوناتھن نے کہا کہ نائجیریا کے شمال میں بغاوت درپیش ہے اور تسلیم کیا کہ بوکو حرم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بورنو کے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اُنھوں نے نائجیریا کی سلامتی افواج کو احکامات صادر کیے ہیں کہ باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

بوکو حرم نے 2009ء سے حکومت کے ساتھ لڑائی چھیڑ رکھی ہے، جس دوران کیے جانے والے بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں اکثر و بیشتر یہ حملے کلیساؤں، عہدے داروں اور قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والی ایک وڈیو رپورٹ میں اِس گروہ کے مبینہ سرغنے کو یہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ باما اور باگا کے قصبوں میں ہونے والے حملوں کے وہ ہی ذمہ دار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کو اغوا کیا جائے۔

اِس سے قبل، حقوقِ انسانی سے تعلق رکھنے والے گروپوں نے نائجیریا کے حکام پر الزام لگایا کہ شدت پسند گروہ کو مات دینے کی کوششوں کے دوران اُنھوں نے طاقت کا شدید استعمال کیا گیا، جس کے باعث معصوم شہری ہلاک ہوئے۔

باگا میں ہونے والا حملہ جس میں 187 افراد ہلاک ہوئے، وہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں فوجیوں کی طرف سے لوگوں کے گھروں کو نذرِ آتش کرنے سے واقع ہوئیں۔ فوج نے اِن الزامات کی تردید کی ہے۔
XS
SM
MD
LG