رسائی کے لنکس

’ہمیں معلوم ہے مغوی لڑکیاں کہاں ہیں‘


ایلکس بدیع

ایلکس بدیع

چیف آف ڈیفنس ائیر مارشل ایلکس بدیع نے ابوجا میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ فوجی کارروائی مغوی لڑکیوں کے لیے خطرناک ہوگی۔

نائیجیریا کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوج کو علم ہے کہ 200 سے زائد مغوی طالبات کہاں پر قید ہیں لیکن ان کی بازیابی کے لیے طاقت کا استعمال مشکل ہوگا۔

چیف آف ڈیفنس ائیر مارشل ایلس بدیع نے ابوجا میں پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ فوجی کارروائی مغوی لڑکیوں کے لیے خطرناک ہوگی۔

’’ہم اپنے بچیوں کو واپس لانے کی کوششوں کے نام پر انھیں مار نہیں سکتے۔‘‘

انہوں نے اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی جہاں ان کے بقول لڑکیاں قید ہیں تاہم ان کا کہنا تھا ’’یہ بچیوں کے والدین کے لیے اچھی خبر ہے کہ ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔ ہم کام کر رہے ہیں۔ ہم لڑکیوں کو واپس لائیں گے۔‘‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب لڑکیوں کے اغواء کے معاملے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹرز کی جانب مارچ کیا۔

شمالی نائیجیریا کے ایک دور دراز گاؤں چیبوک سے ان لڑکیوں کو اپریل کے وسط میں بوکو حرام کے باغی جنگجوؤں نے اس اسکول سے اس وقت یرغمال بنایا جب وہ امتحان دے رہی تھیں۔

عسکریت پسندوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے بدلے مغوی لڑکیوں کو چھوڑنے کی پیشکش کی تھی جسے نائیجیریا نے مسترد کردیا تھا۔

نائیجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن اور ان کی حکومت کو لاپتا بچیوں کی بازیابی میں ناکامی پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لڑکیوں کی تلاش کے لیے امریکہ سمیت متعدد ممالک نائیجیریا کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

گزشتہ پانچ سال سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جاری بغاوت میں بوکو حرام کو ہزاروں افراد کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں تنظیم کی طرف سے حملوں میں شدت اور اضافہ دیکھا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG