رسائی کے لنکس

نائجیریا: صدر جوناتھن کی دو سالہ کارکردگی پر ملا جلا ردعمل

  • ہیدر مرڈوک

صدر جوناتھن گڈلک

صدر جوناتھن گڈلک

صدر گُڈ لک جوناتھن کے نائجیریا کے منتخب لیڈر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے ایک سال بعد ، اور اپنا عہدہ سنبھالنے کے دو سال بعد، نائجیریا میں یوم ِ جمہوریت منایا جا رہا ہے ۔ 1999 میں نائجیریا میں اقتدار فوج سے سویلین حکومت کو منتقل ہوا تھا اور یہ چھٹی اسی دن کی یاد میں منائی جاتی ہے ۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران صدر جوناتھن کی کارکردگی کے بارے میں تجزیہ کاروں کی رائے ملی جُلی ہے ۔

اپنے پیشرو عمر یارالدعا کے انتقال کے بعد، گذشتہ دو برسوں سے نائجیریا کی قیادت صدر جوناتھن کے ہاتھوں میں ہے۔ دارالحکومت کی سڑکوں پر ان کا مخصوص فیدورا ہیٹ آج بھی مقبول ہے۔ لیکن نائجیریا کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ صدر کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ پرانے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں اور نئے خطرات سر اٹھا رہے ہیں۔

بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اور وقت ملنا چاہیئے ۔ان لوگوں کو امید ہے کہ صدر نے توانائی کے شعبے کو ترقی دینے، کرپشن کو کم کرنے، اسکولوں میں زیادہ بچوں کو داخل کرنے، معیشت کو ترقی دینے اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کی جو پالیسیاں بیان کی ہیں، ان سے نائجیریا زیادہ پُر امن اور خوشحال بن جائے گا۔

ادانگ الیبی نائجیریا کے ممتاز ترین اخبار دی ڈیلی ٹرسٹ میں کالم نویس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر نے سرکاری نظام کو بہتر بنانے، بجلی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور کاشتکاری کی حوصلہ افزائی کرنے کے جو منصوبے بنائے ہیں، ان سے نائجیریا کی کایا پلٹ جائے گی ۔

’’ہمیں گڈلک جوناتھن انتظامیہ کے ساتھ فیاضی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔ اب تک اس انتظامیہ نے کوئی ٹھوس کامیابیاں حاصل نہیں کی ہیں لیکن امکانات موجود ہیں ۔ میرے خیال میں کچھ شعبوں میں انھوں نے صحیح لائحۂ عمل اختیار کیا ہے، اور جلد ہی ہم اچھے نتائج دیکھنا شروع کردیں گے ۔‘‘

حسینی عبدو جو غربت ختم کرنے کے پروگرام ایکشن ایڈ کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ان میں سے کچھ پالیسیاں کامیاب ہو سکتی ہیں اگر ان پر عمل در آمد کیا جائے، لیکن بعض دوسری پالیسیاں غلط ہیں۔ مثال کے طور پر، حکومت کے اس منصوبے سے کہ بجلی کی قیمت بڑھا کر سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جائے، صرف یہ ہوگا کہ غریب لوگ ناراض ہو جائیں گے جو آبادی میں اکثریت میں ہیں۔

عبدو کہتے ہیں کہ صدر کے پہلے سال میں بموں اور بد عنوانیوں کی بھر مار رہی ہے ۔ ان کا اشارہ اسلامی عسکریت پسند گروپ بوکو حرام کے عروج اور اس انکشاف کی طرف ہے کہ گذشتہ سال اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے تقریباً 7 ارب ڈالر کی سرکاری رقم خرد برد کر لی ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ کسی حکومت کے بارے میں جو اتنے کم عرصے اقتدار میں رہی ہو، کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہے، لیکن مسٹر جوناتھن کے لیے حالات سازگار معلوم نہیں دیتے۔’’انتخابات کے بعد حالات خاصے خراب رہے ہیں۔ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں سیکورٹی کی حالت جتنی خراب آجکل ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے ۔‘‘

یہ سارے مسائل نائجیریا کے صدر نے پیدا نہیں کیے ہیں ، لیکن عبدو کہتے ہیں کہ لوگ ان کی ذمہ داری صدر پر ڈال رہے ہیں اور ان کی قیادت پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے ۔

صدر جوناتھن کے حامی کہتےہیں کہ ایک لیڈر کی حیثیت سے ان ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے نائجر ڈیلٹا میں حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان 2009 کا امن سمجھوتہ کرنے اور اسے قائم رکھنے میں مدد دی ہے ۔ عسکریت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ملک کی تیل کی دولت میں عام لوگوں کے حصے کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔

نائجر ڈیلٹا کے علاقے کی ایک وکیل انا الحابور کہتی ہیں کہ حکومت کی طرف سے عسکریت پسندوں کو عام معافی کی پیشکش سے پہلے، ان کا علاقہ پوری طرح جنگ کی زد میں تھا۔’’جوناتھن کی انتظامیہ کے ایک سال کے عرصے میں ہمیں امن ملا ہے ، خاص طور سے نائجر ڈیلٹا میں‘‘ ۔

یہاں ابوجا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جنوب کے علاقے کا امن سمجھوتہ، اس بات کی مثال ہے کہ حکومت کو بوکو حرام سے مسئلے سے نمٹنے کا ایک طریقہ کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن بعض دوسرے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام معافی کا پروگرام بنیادی طور سے ناقص ہے ۔

Isitoah Ozoemene نیشنل کمیشن فار کالجز آف ایجوکیشن کے چیئر مین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو عام معافی دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مجرموں کو جرم نہ کرنے کے عوض پیسہ دے رہے ہیں۔

’’یہ پروگرام صحیح معنوں میں کامیاب نہیں ہوا ہے ۔ انہیں بس اتنی کامیابی ملی ہے کہ وہ لوگوں کو مفت میں پیسہ دیتے ہیں تا کہ وہ کام چلنے دیں یا بندرگاہ میں آمد ورفت میں خلل اندازی نہ کریں۔‘‘

نائجریا کے بہت سے لوگوں کی طرح، Ozoemene کہتے ہیں کہ حکومت مسلسل لمبے چوڑے وعدے کرتی رہی ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اگلے تین برسوں میں صدر جوناتھن ان وعدوں کو عملی شکل دے سکتے ہیں؟

XS
SM
MD
LG