رسائی کے لنکس

نائجیریا میں لاکھوں افراد کو ’غذائی قلت کا سامنا‘


فائل فوٹو

ایک اندازے کے مطابق بورنو میں 30 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی درمیانے درجے کی شدت سے انتہائی درجے تک کی قلت کا سامنا تھا۔

ڈاکٹر یورگے کاسٹیلا کہتے ہیں کہ امدادی کارکنوں کی علاقے میں وسیع تر رسائی کی وجہ سے بورنو ریاست میں انسانی بحران کی وسعت کا اندازہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔

کاسٹیلا عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی مینجمنٹ اینڈ سپورٹ کے اعلیٰ اہلکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’وہاں کئی برسوں سے بحران جاری ہے۔ وہاں متعدد سروے صرف جولائی اور اگست میں ہی ممکن تھے کیونکہ اُس وقت رسائی زیادہ تھی اور ہم اموات اور غذائی قلت کی سطح کا بڑی حد تک تعین کر پائے تھے۔ اس دوران ہم نے جو اعدادوشمار جمع کیے وہ اپنی شدت اور زیادتی کی وجہ سے انتہائی منفرد تھے۔‘‘

ایک اندازے کے مطابق بورنو میں 30 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی درمیانے درجے کی شدت سے انتہائی درجے تک کی قلت کا سامنا تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے وہاں اپنے عملے میں اضافہ کر دیا ہے اور ہیضے جیسے وبائی امراض کے بارے میں پہلے ہی خبردار کرنے والے آن لائن نظام کی تشکیل کر دی ہے۔

بورنو، ایڈاماوا اور یوبے ریاستوں میں بوکو حرام کے حملوں کی وجہ سے ہنگامی صورت حال نافذ کر دی گئی ہے، لیکن بے گھر ہونے والے بیشتر افراد بورنو میں ہیں۔ اس لیے صحت کے پروگراموں کو سب سے پہلے وہیں تقویت دی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر یورگے کاسٹیلا کا کہنا ہے کہ ’’جہاں تک ضروریات کا تعلق ہے، اعدادو شمار کے اعتبار سے بورنو کہیں آگے ہے۔ اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر وہیں توجہ مرتکز کی جائے جہاں رہنے والے لوگوں کو مدد کی انتہائی ضرورت ہے۔ اب وہاں پر شرح اموات اور غذائی قلت میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ لیکن ابھی بھی صورت حال ایسی نہیں ہے جیسی کہ ہم چاہتے ہیں۔ لیکن اب ہم نے اپنے کام کا دائرہ کار دوسرے علاقوں تک بڑھا دیا ہے۔‘‘

بورنو ریاست میں صحت کی نگہداشت کا نظام سلامتی کی غیر محفوظ صورت حال ، نا ہموار علاقے اور حفظان صحت کے کارکنوں، ادویات، ساز و سامان اور پینے کے صاف پانی کی کمی کی وجہ سے تباہ حال تھا۔ اقوامِ متحدہ اور اس کے 18 امدادی فریقوں کا اندازہ ہے کہ اُنہیں 60 لاکھ ضرورت مند افراد کے لیے صرف صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے 94 ملین ڈالر درکار ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نائجیریا کی اس ریاست میں صحت کی 700 سے زائد تنصیبات میں سے 35 فیصد تباہ ہو چکی ہیں۔ 29 فیصد کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صرف 34 فیصد ٹھیک حالت میں ہیں۔ لیکن ڈاکٹر کاسٹیلا کہتے ہیں کہ صحت کے مرکز کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکمل طور پر کارآمد بھی ہے۔

کاسٹیلا کہ کہنا ہے کہ بیشتر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ بورنو ریاست کو کتنے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر کاسٹیلا کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ایک تہائی تنصیبات تباہ نہیں ہوئی ہوں گی ’’لیکن وہ کارآمد نہیں تھیں کیونکہ وہ ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں تک رسائی ناممکن ہے۔ وہاں کوئی عملہ نہیں ہے اور ادویات بھی نہیں تھیں۔ جو تنصیبات کارآمد ہیں اُن میں سے صرف 60 فیصد کی پانی تک رسائی ہے۔ ان میں سے صرف نصف میں زچگی کے کیسز کی دیکھ بھال کی جا سکتی تھی اور ہنگامی حالات میں موت کا بڑا سبب بننے کی وجوہات میں سے ایک زچگی بھی ہے اور صرف 75 فیصد بچوں کی پیدائش کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت کے حامل تھیں۔‘‘

’’اگر آپ چین میں زلزلے کے بارے میں سنتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہاں بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہوں گے کیونکہ یہ ایک گنجان آباد ملک ہے۔ نائجیریا بھی ایک گنجان آباد ملک ہے۔ ضروری نہیں کہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ یہاں کتنا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ مائے دو گوری شہر کی آبادی جنیوا سے پانچ گنازیادہ ہے۔ میں جنیوا میں رہتا ہوں اسلئے جو کچھ بھی وہاں ہوتا ہے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اُس سے متاثر ہوتی ہے۔‘‘

مائے دو گوری بورنو ریاست کا دارالحکومت ہے۔ بورنو میں انسانی بحران کو حل کرنے کیلئے کم مدت اور لمبی مدت دونوں طرح کی کوششیں درکار ہیں۔ کاسٹیلا کا کہنا ہے کہ یہاں بیشتر مسائل کو حل کرنے میں غالباً کم سے کم دو سال لگ جائیں گے۔

’’اس نوعیت کی صورت حال کے بارے میں میرے تجربے کے مطابق اگر خوراک اور دیکھ بھال کا نظام ہے اور اُس تک رسائی بھی ممکن ہے تو پھر حالات کو بہتر کرنے میں بہت کم وقت درکار ہو گا۔ اس میں چند ہفتے لگیں گے اور ممکن ہے کہ ایک دو ماہ میں یہ مکمل ہو جائے۔ لیکن یہ حقیقت نہیں کیونکہ خوراک کافی نہیں اور رسائی بھی کافی نہیں۔ پھر سیکورٹی بھی نہیں ہے۔ اسلئے دو سال کا عرصہ بھی ایک اُمید افزاء تخمینہ ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ماضی میں نائجیریا تیل کی آمدن کی وجہ سے انسانی بحران کو حل کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا تھا۔ لیکن اب تیل کی قیمتوں میں کمی اور نائجیر ڈیلٹا میں تیل کی پیداوار ی تنصیبات پر عسکریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے ملک کی معیشت کساد بازاری کا شکار ہے۔

XS
SM
MD
LG