رسائی کے لنکس

نائیجیریا: مغوی لڑکیوں کے والدین کا اقوام متحدہ سے رابطہ


ریورنڈ انوک مارک

ریورنڈ انوک مارک

یہ بھی واضح نہیں کہ اقوام متحدہ کا کوئی بھی ادارہ نائیجیریا کی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ضمن میں کیسے کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

نائیجیریا سے گزشتہ سال اپریل میں بوکو حرام کی طرف سے اغوا کی جانے والی 200 طالبات کے والدین اپنی بچیوں کی بازیابی بارے حکومتی کوششوں سے مایوس ہو کر اب براہ راست اقوام متحدہ سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔

اس بارے میں تگ و دو کرنے والے ایک گروپ نے والدین کی طرف سے نائیجیریا میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ اس گروپ نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال سے بھی درخواست کی ہے۔

تاہم اس بارے میں اقوام متحدہ کا فوری ردعمل سامنے نہیں آسکا ہے۔

والدین کے نمائندوں کے گروپ کے سربراہ ریورنڈ اینوک مارک نے خبررساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا کہ "اگر حکومت کوئی ایکشن نہیں لے سکتی، تو ہم اقوام متحدہ سے کہتے ہیں وہ آئے اور ہماری مدد کرے اور اگر انھوں نے یہ (درخواست) مسترد کردی تو ہمیں نہیں معلوم کہ پھر ہم کیا کریں۔"

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ اقوام متحدہ کا کوئی بھی ادارہ نائیجیریا کی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ضمن میں کیسے کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

ریاست بونو کے دورافتادہ علاقے چیبوک سے لڑکیوں کے اغوا ہوئے آٹھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور والدین کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی یہ معلوم نہیں کہ حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے۔

ایک صدراتی ترجمان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن معاملے کی نزاکت کے پیش نظر اس کی تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔

گزشتہ سال 14 اپریل کو شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے جنگجو چیبوک کے ایک اسکول پر دھاوا بولا اور یہاں امتحانات میں مصروف 270 لڑکیوں کو زبردستی ٹرکوں میں بٹھا کر لے گئے۔ بعد میں لگ بھگ 50 لڑکیاں ان کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

XS
SM
MD
LG