رسائی کے لنکس

نائیجریا میں بھگدڑ سے گیارہ افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات


نائیجریا میں بھگدڑ سے گیارہ افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات

نائیجریا میں بھگدڑ سے گیارہ افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات

نائیجریا کے حکام کا کہناہے کہ وہ ہفتے کے روزصدر گڈلک جوناتھن کے انتخابی جلسے کے موقع پر پیش آنے والے بھگدڑ کے ہلاک خیز واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں ۔

مسٹر جوناتھن نے اس مہلک حادثے کے بعد، جس میں 11 افراد پاؤں تلے کچل کر ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، اپنے کئی انتخابی جلسے منسوخ کردیے ہیں۔

بھگدڑ کے وقت پورٹ ہرکورٹ کے ایک اسٹیڈیم میں صدر جوناتھن کی تقریر سننے کے لیے سینکڑوں افراد جمع تھے۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ بھگدڑ پولیس کی جانب سے ہوا میں گولیاں چلانے کے بعد شروع ہوئی۔ پولیس کی فائرنگ کا بظاہر مقصد اسٹڈیم سے باہر نکلنے والے لوگوں کے رش پر کنٹرول کرناتھا۔

صدر کے ایک ترجمان کا کہناہے کہ مسٹر جوناتھن کو بھگدڑ کی خبر پر دکھ اور افسوس ہوا ہے اور انہوں نے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

نائیجریا میں ان دنوں اپریل کے انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ صدر جوناتھن نے اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں پچھلے پیر کو ایک ملک گیر دورہ شروع کیا تھا۔

مسٹر جوناتھن نے پچھلے مہینے کئی امیدواروں کو شکست دے کرصدارت کے لیے حکمران جماعت کی نامزدگی جیت لی تھی۔ پارٹی کے اندر کئی لوگ یہ چاہتے تھے کہ اس بار جنوب کے ایک عیسائی جوناتھن کی بجائے شمال سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے۔

نائیجریا کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ ہے جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد تقریبابرابر ہے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی دونوں مذہبی گروپوں کو باری باری صدارت دینے کی پالیسی پر کام کررہی ہے۔

صدارتی انتخابات 9 اپریل کو ہورہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG