رسائی کے لنکس

نائجیرین مشتبہ دہشت گرد امریکی دانش ورں کی نظر میں

  • نیکو کولمبانٹ

کرسمس کے روز ایک مسافر بردار ہوائی جہاز کو بم سے اڑانے کی کوشش کرنے والے نائجیرین ملزم کا معاملہ اب امریکی عدالت کے سامنے ہے ۔ اس کے ساتھ ہی، امریکی دانشور اب اس سوال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا بین الاقوامی دہشت گردی کے مسئلے میں نائجیریا کوئی خطرہ بن سکتا ہے ۔تفصیل وائس آف امریکہ کے نامہ نگار Nico Colombant کی رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے۔


امریکہ کے عہدے دار اور اس کا عدالتی نظام ڈیٹرائیٹ جانے والے مسافر بردار ہوائی جہاز پر پچیس دسمبر کے ناکام حملے کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نائجیریا کی حکومت نے بار بار کہا ہے کہ یہ اپنی قسم کا اکیلا واقعہ تھا۔ اس نےاس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ تئیس سالہ ملزم، عمر فاروق عبد المطلب نے اپنے نوجوانی اور بلوغت کے ابتدائی برسوں کا بیشتر حصہ نائجیریا سے باہر گذارا ہے ۔

جب امریکہ نے ملکوں کی اس فہرست میں، جن کے مسافروں کی اضافی سکریننگ ہوگی، نائجیریا کا نام شامل کیا، تو اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ نائجیریا کی حکومت نے یہاں تک کہہ دیا کے ا س اقدام سے دو طرفہ تعلقات کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔

لیکن سکالر پیٹر پھام کہتے ہیں کہ نائجیریا میں اسلامی انتہا پسندی کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: اگرچہ روایتی طور پر مغربی افریقہ میں اسلام پُر امن رہا ہے اور اس پر صوفی بھائی چارے کے اثرات بہت گہرے ہیں، لیکن ہم نے گذشتہ 15 سے 20 برسوں میں یہ بھی دیکھا ہے کہ انتہا پسند عناصر کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کو سر اٹھاناہی تھا۔

حال ہی میں نائجیریا کے شمالی شہر ، Bauchi میں ہونے والے تشدد میں درجنوں افراد اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ۔ Boko Haram نامی گروپ اور اس سے وابستہ دوسرے گروپ، پورے نائجیریا میں ایسے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کی نظر میں خالص اسلام ہے ۔
اس گروپ کے نام کا مطلب ہے مغربی تعلیم گناہ ہے ۔

ایک اور اسلامی فرقہ بھی سرگرم رہا ہے ۔ یہ فرقہ خود کو طالبان کہتا ہے اور اس نے شمالی علاقے میں جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، کئی بار حملے کیے ہیں۔ National Committee on American Foreign Policy کے افریقہ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر، پھام، کہتے ہیں کہ نائجیریا میں بعض دوسرے گروپ بھی ہیں، جن پر کڑی نظر رکھی جانی چاہیئے ۔ ان کے الفاظ ہیں: نائجیریا میں حزب اللہ کی ایک برانچ ہے جس نے شمال کی مختلف ریاستوں میں کبھی کبھی پیریڈوں کا اہتمام کیا ہے ۔ بعض انتہا پسند گروپوں نے اس علاقے میں قدم جما لیے ہیں۔ ان گروپوں کو پیسہ اکثر باہر سے ملتا ہے لیکن ان کی موجوگی میں کوئی شبہ نہیں۔

لیکن نیو یارک کی سٹی یونیورسٹی کی نائجیریا نژاد امریکی پروفیسر، موجو ببلو اولُوفنکے اوکومے کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے خطرات کو کسی مخصوص ملک کے ساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے الفاظ ہیں: یہ فرض کرنا کہ چونکہ نائجیریا کے کسی باشندے نے ایسی کوئی حرکت کی ہے، اس لیئے نائجیریا کے تمام لوگ ممکنہ طور پر دہشت گرد ہو سکتے ہیں، صحیح نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو کچھ ہو رہا ہے آپ اسے صحیح طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں، اور آپ یہ نہیں جانتے کہ ساری دنیا کس حد تک سکڑ کر مختصر ہو گئی ہے ۔ اب آپ دنیا کے کسی بھی علاقے کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے سے لے کر ، کسی بھی قسم کی خطرناک سرگرمیوں کے لیئے بھرتی کر سکتے ہیں۔ تو پھر اگر کسی شخص کا تعلق کسی مخصوص جگہ سے ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ اگلے شخص کا تعلق بھی اسی جگہ سے ہوگا۔

نائجیرین حکومت کی طرح، وہ بھی امریکی حکومت سےمتفق نہیں کہ نائجیریا کے لوگوں کی زیادہ سختی سے سکریننگ کی جائے ۔ وہ کہتی ہیں: اگر آپ اس معاملے پر غور کریں، اور آپ یہ دیکھیں کہ جب دوسرے ملکوں کے شہریوں نے اسی قسم کی حرکتیں کی ہیں تو پھر کیا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر shoe bomber ہی کو لیجیے جو میرے خیال برطانوی شہری تھا، تو برطانیہ کے تمام شہریوں کو ایسی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھا جن کی غیرمعمولی چیکنگ ہونی ضروری ہے ۔ اس لیئے نائجیریا کو ایسے ملکوں کی لسٹ میں شامل کرنا، میرے خیال میں انصاف کے خلاف ہے ۔

دوسرے ملک جن کے بارے میں امریکی حکام غیر معمولی سکریننگ کا اختیار چاہتے ہیں، ان میں یمن شامل ہے ، جہاں عبدالمطلب نے پچیس دسمبر کی بمباری کی ناکام کوشش سے پہلے کئی مہینے گذارے تھے۔

اوکومے نے جس شوُ بمبار کا حوالہ دیا ہے وہ برطانوی شہری رچرڈ رِیڈ ہے۔ وہ آج کل امریکی ریاست کولوراڈو کے قید خانے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے ۔ وہ پیرول پر رہاِئی کا اہل نہیں ہے۔ اسے یہ سزا 2001 میں اپنے جوتے میں رکھے دھماکہ خیز مادے کے ذریعے، ہوائی جہاز کو اڑانے کی کوشش کے الزام میں دی گئی تھی۔ اس کےاِس جرم کے بعد ہی مسافروں کے لیے جہاز پر سوار ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتارنا ضروری قرار دے دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG