رسائی کے لنکس

نائیجیریا: دو بم دھماکوں میں کم ازکم 31 ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دھماکے کے وقت یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو کرسمس کی تعطیلات کے لیے خریداری کر رہی تھی۔

نائیجیریا کے شمال وسطی شہر جوس کی ایک مصروف مارکیٹ میں ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں 31 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ای ایم اے) کے ترجمان یوحنا اودو نے کہا کہ جمعرات کو ایک فاسٹ فوڈ ریستوران کے باہر بارود سے بھری دو گاڑیوں میں یکے بعد دیگر دھماکے ہوئے۔

دھماکے کے وقت یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو کرسمس کی تعطیلات کے لیے خریداری کر رہی تھی۔

دھماکے کے ایک عینی شاہد محمد تنکو یوسف نے کہا کہ وہ دوڑ کر جائے وقوع پر پہنچے تو انھوں نے وہاں 11 لاشیں دیکھیں اور وہاں خون ہی خون بکھرا ہوا تھا اور لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرا دھماکا پہلے دھماکے کی جگہ سے 50 میٹر کے فاصلے پر ہوا جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔

این ای ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اندازاً کتنے افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ زخمی اور ہلاک ہونے والوں کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے جوس میں اس علاقے کے قریب ہی ہوئے جہاں مئی میں دو بم دھماکوں میں 118 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کا الزام شدت پسند تنظیم بوکوحرام پر عائد کیا گیا تھا۔

بوکوحرام گزشتہ پانچ سال کے دوران سخت گیر اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے شمالی نائیجیریا میں فائرنگ، بم دھماکے اور اغواء کی کارروائیاں کر چکی ہے۔

جمعرات کو ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے تاہم اودو کے خیال میں اس حملے کے پیچھے بھی بوکوحرام کا ہاتھ ہے۔

اودو نے کہا کہ بوکوحرام نے حال ہی میں خواتین خود کش بمباروں کو استعمال کرنا شروع کیا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ دونوں حملہ آور مرد تھے۔

اس خطے میں تشدد کی وجہ سے صدر گڈلک جوناتھن نے گزشتہ سال ملک کی تین شمال مشرقی ریاستوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر رکھا ہے لیکن آئندہ سال فروری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے پرتشدد حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ انتخابات میں سابق فوجی حکمران محمد بوحاری دوسری دفعہ جوناتھن کا مقابلہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG