رسائی کے لنکس

امریکی حکومت نے کہا کہ نائجیریا میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اندھا دھند ہلاکتیں اور حراستیں، انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بن گئی ہیں۔

گزشتہ ہفتے بوکو حرام اور نائجیریا کی سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کے بعد، جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہو ئے، یہ سوال پیدا ہوئے ہیں کہ اس لڑائی کا ذمہ دار کون تھا اور کیا اس عسکریت پسند گروپ کو سفارتکاری کے ذریعے لڑائی ترک کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

شروع میں تو لوگ یہ سمجھے کہ شمال میں باگا کے قصبے میں جہاں بیشتر لوگوں کا پیشہ ماہی گیری ہے 200 افراد کی ہلاکت کی وجہ بوکو حرام کا حملہ ہے۔

لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تفصیلات سامنے آنی شروع ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ یہ قتل و غارت گری ایک اور قسم کی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتی ہے ایسی کارروائی جو شاید بوکو حرام کی باغیانہ سرگرمیوں سے زیادہ تباہ کن ہے۔

یونیورسٹی آف ابوجا کے انسٹی ٹیوٹ فار کرپشن اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کبیر ماتو کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ بوکو حرام نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا ہو اور اطلاعات کے مطابق واقعی ایک سپاہی ہلاک ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے گھر جلا دیے اور سویلین باشندوں کو ہلاک کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات نائجیریا میں اتنے عام ہو گئے ہیں کہ اب یہ تقریباً معمول کی بات بن گئی ہے۔

‘‘عسکریت پسند جو سپاہیوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں، لا پتہ ہو جاتے ہیں ۔ فوج کی قتل و غارت گری کا نشانہ عام طور سے بے گناہ، نہتے اور قانون کی پابندی کرنے والے سویلین بنتے ہیں۔’’

لڑائی کے بعد سیکورٹی فورسز نے کہا کہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور بوکو حرام کا گروپ جو اسلامی قانون کے طالبان جیسے کٹر اسلامی قانون کا نفاذ کرنا چاہتا ہے قصبے میں چھپا ہوا ہے اور سویلین باشندوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

لیکن اس ہفتے ایک رپورٹ میں جس میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے رپورٹوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے امریکی حکومت نے کہا کہ نائجیریا میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اندھا دھند ہلاکتیں اور حراستیں، انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بن گئی ہیں۔

نائجیریا میں امریکہ کے سفیر ٹیرنس پی میکیلی نے کہا کہ ‘‘اس خطرناک بغاوت پر قابو پانے کی کوشش میں سیکورٹی فورسز حد سے آگے نکل گئی ہیں اور بے گناہ سویلین آبادی کے خلاف تشدد کی کارروائیاں کر رہی ہیں اور املاک کو تباہ کر رہی ہیں۔ ہمیں کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ہمیں لوگوں کو جان سے مارنے اور انہیں قید کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔’’

سفیر کہتے ہیں کہ بوکو حرام کے خلاف جنگ میں نائجیریا کی ملٹری بڑی مشکل میں ہیں۔ بوکوحرام چھپ چھپا کر، کوئی وردی پہنے بغیر کارروائیاں کرتا ہے اور اسے آسانی سے عام لوگوں میں پہچانا نہیں جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

‘‘ان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ زیادہ جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں انھوں نے مغربی ملکوں کے لوگوں کو نشانہ بنانے میں اضافہ کر دیا ہے۔’’

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اب تک بوکو حرام سے متعلق تشدد میں تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر گڈلک جانتھن نے ایک کمیٹی کا افتتاح کیا جو اس بغاوت کو ختم کرنے کے سفارتی طریقوں پر، جیسے امن مذاکرات پر یا عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے عوض عام معافی کی پیش کش کرنے پر تحقیق کرے گی۔

امریکی سفیر کہتے ہیں کہ جب حکومت نے عام معافی کی پیش کش کی یعنی 2009 میں نیجر ڈیلٹا میں ہتھیاروں کے عوض معمولی سی تنخواہوں اور کام کرنے کی تربیت کی پیش کش کی تو یہ علاقہ یقیناً زیادہ پر امن ہو گیا۔

لیکن وہ انتباہ کرتے ہیں کہ یہ دونوں تنازعے بہت مختلف ہیں ۔

یونیورسٹی آف ابوجا میں سیاسیات کے لیکچرر ابو بکر عمر قاری کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ عام معافی یا امن مذاکرات کامیاب نہ ہوں کیوں کہ بوکو حرام کوئی ایک تنظیم نہیں ہے۔

‘‘میری پریشانی یہ ہے کہ یہ بوکو حرام کا معاملہ ایک قسم کا فرنچائز بن گیا ہے جس میں اب بہت سے گروپ شامل ہو گئے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ اصل بوکو حرام سے کسی قسم کی مفاہمت یا سمجھوتہ ہو جائے۔ لیکن بہت سے مجرمانہ عناصر ہیں جو بوکو حرام کی آڑ میں ہر قسم کی مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔’’

قاری کہتے ہیں کہ عام معافی تو دور کی بات ہے بوکو حرام کا تشدد بڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز مقامی آبادیوں کو الگ تھلگ کر رہی ہیں۔

نائجیریا کی سیکورٹی فورسز نے بار بار انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات سے انکار کیا ہے اور صدر گڈلک کہتے ہیں کہ یہ تمام الزامات سیاسی مصلحتوں کی بنا پر لگائے جا رہے ہیں اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG