رسائی کے لنکس

نائیجریا میں مشتبہ انتہا پسندوں کے حملے میں 8 ہلاک


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

نائیجریا کے شمال میں اسلامی انتہا پسند گروپ کے مشتبہ حملہ آوروں نے چار پولیس افسران سمیت آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ منگل کی رات پوٹسکم قصبے میں ایک ’بار‘ پر کیا گیا، اور حکام نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار بوکو حرم نامی تنظیم کو ٹھہرایا ہے۔

اس انتہا پسند گروپ نے نائیجریا کے مسلمان اکثریت والے شمالی علاقے میں آباد مسیح برداری کے افراد کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔

بوکو حرم کو گزشتہ سال ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا ہے جس میں کرسمس کے موقع پر مختلف گرجا گھروں پر بم حملے اور اگست میں ابوجا کے علاقے میں اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

منگل کو بھی ایک مشتعل گروپ نے جنوبی شہر بنین میں ایک مسجد اور اسکول پر حملہ کیا تھا۔ نائیجرین ریڈ کراس کے مطابق اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے اور حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا تعلق بھی مسلمانوں اور مسیحی برادری کے درمیان کشیدگی سے ہے۔

صدر گڈلک جوناتھن نے حال ہی میں شمالی نائیجریا کے 15 مقامات پر ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد بوکو حرم کی سرگرمیوں پر قابو پانا تھا۔

صدر نے ملک کے شمال میں اضافی سکیورٹی دستے بھی تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود بوکو حرم کے حملے جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG