رسائی کے لنکس

جائے واقعہ پہ پہنچنے والے 'وائس آف امریکہ' کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد اخبار کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوگئے جو ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر برہمی کا اظہار کر رہے تھے

نائجیریا میں ایک اخبار کے دو مختلف دفاتر میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکہ جمعرات کو ملک کے اہم قومی روزنامے 'دِس ڈے' کے دارالحکومت ابوجا میں واقع دفتر میں ہوا۔

اخبار کے ادارتی بورڈ کے سربراہ اولوسیگان ادینیا کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے اپنی جیپ عمارت کے مرکزی دروازے سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں بمبار اور دو محافظ ہلاک ہوگئے۔

جائے واقعہ پہ پہنچنے والے 'وائس آف امریکہ' کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد اخبار کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہوگئے جو ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر برہمی کا اظہار کر رہے تھے۔

واقعے کے کچھ دیر بعد کدونا شہر کی اس عمارت پہ کیے جانے والے ایک اور خود کش حملے میں چار افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے جہاں 'دس ڈے' سمیت دو دیگر اخبارات کے دفاتر قائم ہیں۔

کدونا شہر میں موجود 'وی او اے' کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ پولیس نے دھماکےکے بعد ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق خود کش بمبار نے اپنی گاڑی اخبارات کے دفاتر سے ٹکرانے سے قبل"اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا۔

خود کش حملے کے کچھ دیر بعد کدونا میں ہونے والے ایک دوسرے بم دھماکے میں بھی کئی افراد زخمی ہوئے۔ تاحال کسی نے بھی ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

امریکہ نے تشدد کے ان تازہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے دھماکوں کی تحقیقات میں نائجیریا کی حکومت کو تعاون کی پیش کش کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائیجیریا کی مسلم شدت پسند تنظیم 'بوکو حرام' کے ان حملوں میں ملوث ہونے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ نائجیریا کے حکام بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی گزشتہ دو برسوں سے جاری لہر پہ قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان حملوں میں سے بیشتر کا الزام 'بوکو حرام' پہ عائد کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG