رسائی کے لنکس

نائجیریا میں تشدّد، اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی تحمّل کی اپیل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مُون اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے تمام فریقوں سے تحمّل سے کام لینے کی اپیل کی ہے

نائجیریا میں اتوار کے روز وحشیانہ فرقہ وارانہ تشدّد کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مُون اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے تمام فریقوں سے تحمّل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر بان نے جَوس شہر کے قریب سینکڑوں جانوں کے زیاں کو ہولناک قرار دیا۔انہوں نے نائجیریا کے سیاسی اور مذہبی لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ بیشتر مسلمان فُولانی چرواہوں اور عیسائى کسانوں کے درمیان خوں ریز جھڑپوں کے اصل اسباب سے نمٹنے کے لیے مِل کر کام کریں۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا ہے کہ نائجیریا کی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جو لوگ اس تشدّد کے ذمے دار ہیں ، اُنہیں اِنصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔

تشدّد کے حالیہ واقعات میں کم سے کم 200 لوگ مارے گئے ہیں اور اب جَوس کی سڑکوں پر فوج گشت کررہی ہے۔

نائجیریا کے سطحِ مُرتفع کے صوبے میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ہوسکتا ہے کہ 500 تک بڑھ جائے۔عہدے داروں نے اور امدادی کارکنوں نے ابھی تک تمام لاشوں کو تلاش کرنے اور گننے کا کام مکمل نہیں کیا ہے۔

قائم مقام صدر گُڈ لک جوناتھن نے پیر کے روز اپنے قومی سلامتی کے مُشیر سارکی مختار کو برطرف کرکے اُن کی جگہ علیو گوساؤ کو مشیر مقرر کردیا ہے۔ گوساؤ سابق صدر اولُو سی گُن اوباسانجو کی حکومت میں سکیورٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ فُولانی چرواہوں نے اتوار کی صبح سورج نکلنے سے بہت پہلے مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے عیسائى اکثریت کے دیہات پرحملے کرتے ہوئے گھروں کو آگ لگانا اور لوگوں کو چُھروں اور کلہاڑیوں سے ہلاک کرنا شروع کردیا تھا۔

کچھ عینی شاہدوں نے ان حملوں کو جنوری میں مذہبی بنیاد پر تشدّد کے اُن واقعات کے خلاف جوابی کارووائى کہا ہے ، جن میں 300 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اُس وقت کے بعد سے جَوس اور آس پاس کے علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ رہتا ہے ۔ مقامی لوگ یہ سوال اُٹھا رہے ہیں سکیورٹی فورسز نے اتوار کے حملوں کو کیوں نہیں روکا۔

صوبائى حکومت کے ایک مُشیر دان منجانگ نے کہا ہے کہ ان حملوں کے سلسلے میں 95 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جوس شہر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ماضی میں تشدّد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ایسے ہی واقعات میں 2008 میں تقریباً 200 لوگ،2004 میں 700 لوگ اور 2001 میں ایک ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

یہ شہر ، ملک کو بیشتر مسلم اکثریت کے شمال اور بیشتر عیسائى اکثریت کے جنوب یعنی دو مذاہب کی آبادیوں میں تقسیم کرنے والے خط پر واقع ہے۔

XS
SM
MD
LG