رسائی کے لنکس

صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لئے قومی ووٹوں کی اکثریت کے علاوہ ملک کی 36 ریاستوں میں سے کم ازکم 25 فیصد، یعنی دو چوتھائی ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے

امریکہ اور برطانیہ نے نائجیریا کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران دھاندلی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہومنڈ نے سوموار کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے واضح کیا کہ نائجریا میں ووٹوں کو دستاویزی شکل دینے کے دوران، ’دانستہ، سیاسی ہتھکنڈوں کے شواہد ملے ہیں‘۔

انھوں نے خبردار کیا کہ امریکی اور برطانوی حکومت الیکشن کمیشن یا اس کے چیئرمین کے اختیارات میں کمی یا کسی بھی طریقے سے نائجیریا کے عوام کے فیصلے کو متاثر کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرے گی۔ بیان میں نہ ہی کسی پارٹی یا کسی فرد کا نام لیا گیا ہے؛ اور نہ ہی نائجریا حکومت یا کسی بڑی پارٹی کا اس پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

نائجریا کے عوام انتخابات کے دو دن بعد بھی نتائج کے انتظار میں ہیں۔ انتخابی حکام نے سوموار کو 9 ریاستوں کے غیرسرکاری نتائج جاری کئے، جس میں حزب اختلاف کی پارٹی آل پروگریسیو کانگریس (اے پی سی) کو جنوب کی 3 ریاستوں میں، جو صدر گڈلک جوناتھن کا گڑھ مانا جاتا ہے، سمیت 7 ریاستوں میں سبقت حاصل رہی ہے۔

نائجریا کی آزاد الیکشن کمیشن پیر کو ہی نتائج کے اجراء کے لئے اپنا اجلاس طلب کیا ہے، جس کے بعد، پہلا نتیجہ آج شام کسی وقت متوقع ہے۔

انتخابات سے قبل ہونے والے رائے عامہ کے سروے میں بتایا گیا تھا کہ صدر جوناتھن کی پیپلز ڈیموکریٹس پارٹی کو اپوزیشن جماعت، اے پی سی اور اس کے صدارتی امیدوار سابق فوجی حکمراں، محمد بوہاری کے سخت چیلجنوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لئے قومی ووٹوں کی اکثریت کے علاوہ ملک کی 36 ریاستوں میں سے کم ازکم 25 فیصد، یعنی دو چوتھائی ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔

قبل ازیں، سوموار کو افریقی یونین اورمشرقی افریقی ریاستوں کی اکنامک کمیونٹی کے جائزہ مشن نے کہا تھا کہ چند مسائل اور تشدد کے باوجود، انتخابات قابل قبول ہیں۔

انتخابات ہفتے کو ہوئے تھے، لیکن تکنیکی مسائل کے باعث، ووٹنگ کا عمل اتوار تک کے لئے بڑھا دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG