رسائی کے لنکس

نائیجیریا: فوج کا 50 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل کرس اولوکولیڈ نے بتایا کہ باما کے علاقے میں کی گئی اس کارروائی میں 15 فوجی اور پانچ شہری بھی مارے گئے۔

نائیجیریا کی فوج نے ایک فوجی بیرک پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں 50 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل کرس اولوکولیڈ نے منگل کو بتایا کہ جمعہ کو باما کے علاقے میں کی گئی اس کارروائی میں 15 فوجی اور پانچ شہری بھی مارے گئے۔

ان کے بقول بیرک پر حملے میں استعمال ہونے والی 20 گاڑیوں کو شناخت کر کے انھیں فضائی کارروائی کرکے تباہ کر دیا گیا۔

یہ علاقہ بورنو ریاست میں ہے جہاں حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر کے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے مزید فوج بھیج رکھی ہے۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے رواں ماہ کے اوائل میں بورنو کے مرکزی شہر مائیدوگوری میں ایک فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائیجیریا کی فوج شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں انھیں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کرتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں یا عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف بھی کرے۔ شورش زدہ علاقے میں ہونے والے جانی نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

ترجمان اولوکولیڈ کا کہنا تھا کہ ’’ کافی تعداد میں شدت پسند زخمی حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ بعض کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے میں پچاس سے زائد شدت پسند مارے گئے۔‘‘

بوکو حرام شمالی نائیجیریا میں سخت گیر اسلامی ریاست کے قیام کے لیے 2009ء سے کارروائیاں کرتی آرہی ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اب تک ان کارروائیوں میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ الزام بھی عائد کرتی آرہی ہیں کہ فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں اور شدت پسندوں میں امتیاز نہیں کرتی۔

صدر گڈلک جوناتھن نے گزشتہ ماہ شورش زدہ علاقوں میں نافذ ہنگامی حالت میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG