رسائی کے لنکس

خلیجِ گوانتانامو میں واقع امریکی حراستی مرکز کی فوجی عدالت کے جج نے 11 ستمبر 2001ء کے مبینہ منصوبہ سازوں پر 5 مئی کو باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع 'پینٹا گون' کے مطابق فوجی جج جیمز پوہل نے القاعدہ سے منسلک پانچ مبینہ دہشت گردوں کے خلاف 11/9 کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ کی کاروائی کے لیے مئی کے پہلے ہفتے کی تاریخ مقرر کی ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان کے وکلائے صفائی التوا کی درخواست کرسکتے ہیں۔

مقدمے کے ملزمان میں 11 ستمبر کے حملوں کے 'ماسٹر مائنڈ' ہونے کا دعویٰ کرنے والا خالد شیخ محمد اور گوانتانامو کے حراستی مرکز میں موجود چار دیگر مبینہ شریک منصوبہ ساز شامل ہیں۔

ان افراد پر دہشت گردی، ہائی جیکنگ، سازش اور قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کے ثابت ہونے کی صورت میں انہیں سزائے موت بھی سنائی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ لگ بھگ ساڑھے 10 برس قبل بیک وقت نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور ریاست پینسلوانیا کے علاقے شینکس ویلے میں کیے جانے والے ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی فوج نے گزشتہ ہفتے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے فوجی عدالت کے قیام کا حکم دیا تھا۔

'پینٹا گون' کا کہنا ہے کہ پانچوں ملزمان کو وکلائے صفائی فراہم کیے گئے ہیں اور ان کی معاونت کے لیے ایسے ماہر وکلا کی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں جو موت کی سزا والے مقدمات کا وسیع تجربہ اور معلومات رکھتے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں ملزمان کے خلاف مقدمات عام شہری عدالتوں کے بجائے فوجی عدالتوں میں چلانے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے پہلے پہل ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت سول عدالت میں کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن گزشتہ برس کانگریس کی جانب سے گوانتانامو کے قیدیوں کو امریکہ منتقل کرنے پہ پابندی عائد کیے جانے کے بعد صدر کو اپنے ارادے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

مقدمہ کے مرکزی ملزم کویتی نژاد خالد شیخ محمد کو پاکستانی حکام نے 2003ء میں دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی سے حراست میں لیا تھا۔

امریکہ میں زیرِ تعلیم رہنے والے خالد شیخ نے 2008ء میں تفتیشی افسران کو بتایا تھا کہ وہ خود پر عائد تمام الزامات تسلیم کرنا چاہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG