رسائی کے لنکس

تحقیق کاروں کو سمندری پرندوں کے جسم سے تمام قسم کی پلاسٹک کی چیزیں ملیں جن میں غبارے، چمکنے والی چھڑیاں، سگریٹ لائٹر، ماڈل کاریں اور کھلونے شامل ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق تقریباً نوے فیصد سمندی پرندے پلاسٹک کھا چکے ہیں جب کہ 2050 تک تمام سمندری پرندے پلاسٹک کھا چکے ہوں گے۔

پیر کو ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ نے کہا ہے کہ 1960 کی دہائی میں صنعتی سطح پر پلاسٹک کی تیاری شروع ہونے کے بعد پانچ فیصد سے بھی کم سمندری پرندوں کے جسم میں پلاسٹک پایا جاتا تھا۔

تحقیق کاروں کو سمندری پرندوں کے جسم سے تمام قسم کی پلاسٹک کی چیزیں ملیں جن میں غبارے، چمکنے والی چھڑیاں، سگریٹ لائٹر، ماڈل کاریں اور کھلونے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ البتروس، پینگوئین، جل چیر اور بگلوں کے پلاسٹک کھانے کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے، جس سے انھیں شدید بیماری یا ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

پرندے پلاسٹک کو مچھلی کے انڈے یا دوسری خوراک سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے ساحلوں پر پلاسٹک خورانی کم ہو گئی ہے کیونکہ وہاں پلاسٹک کی گولیوں کے استعمال کو کم کیا گیا ہے۔ مگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے قریب بحرالکاہل میں صورتحال خراب ہے جہاں پرندوں کی مختلف نسلوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG