رسائی کے لنکس

بھارتی انتخابات سے جڑے دلچسپ حقائق میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ وزارت عظمی کے دونوں امیدوار یعنی راہول گاندھی اور نریندر مودی کنوارے ہیں لیکن مودی کی جانب سے کیا جانے والا اعتراف اب مزید دلچسپی اختیار کرگیا ہے۔

کراچی ... بھارتی انتخابات کے تیسرے اور اب تک کے اہم ترین مرحلے کے موقع پر جمعرات کووزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل بی جے پی کے سب سے اہم امیدوار نریندر سنگھ مودی کے ’اچانک ‘شادی شدہ ہونے کے اعتراف نے سارا دن سب کو حیران کئے رکھا۔

یہ اعتراف انہوں نے پہلی مرتبہ کیا ہے۔ ملک کے تقریباً تمام ٹی وی چینلز نے رپورٹس دی ہیں کہ مودی کی شادی 60 کی دہائی کے آخر میں ہوئی تھی ۔ ان کی اہلیہ کا نام یشودھا بین ہے۔ یشودھا اسکول ٹیچر تھیں مگر اب ریٹائر ہوچکی ہیں۔ وہ مودی کے آبائی علاقے کے قریب ایک گاوٴں میں اپنے بھائی اور ان کی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔نہ تو خود انہوں نے اور نہ ہی نریندر اب تک دوسری شادی کی ہے۔

یشودھا اور نریندر کی شادی کا انکشاف میڈیا کی نالج میں اس وقت آیا جب مودی نے اپنے کاغذات نامزدگی میں خود کو شادی شدہ ظاہر کیا۔

بھارتی انتخابات سے جڑے دلچسپ حقائق میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ وزارت عظمی کے دونوں امیدوار یعنی راہول گاندھی اور نریندر مودی کنوارے ہیں لیکن مودی کی جانب سے کیا جانے والا اعتراف اب مزید دلچسپی اختیار کرگیا ہے۔

یشودھا نریندرسنگھ مودی کیا کہتی ہیں؟
ایک بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے یشودھا نریندر مودی کا باقاعدہ انٹرویو تک لے ڈالا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا ۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ اقتباسات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں:

یشودھا بین کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر اب بھی مودی کی بیوی ہیں۔ نریندر مودی سے ان کی شادی سترہ سال کی عمر میں ہوئی تھی جو صرف تین سال ہی چل سکی۔وہ ریٹائرڈ ٹیچر ہیں اور ان کی پنشن 14ہزار ہے اور دن کا زیادہ تر وقت عبادت میں گزرتا ہے۔

ان کے مطابق مودی کے ساتھ گزارے ہوئے تین سال انہیں تین ماہ کے برابر لگتے ہیں، ان دونوں کا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا بلکہ طے شدہ شرائط پر دونوں نے علیحدگی اختیار کی تھی۔ سالوں سے دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ اگر تریندر وزیراعظم بن کر انہیں نئی دہلی آنے کے لئے فون کرتے ہیں تو کیا وہ جائیں گی ، یشودھا کا کہنا تھا ” مودی انہیں کبھی فون نہیں کریں گے ۔ وہ نہیں چاہتیں کہ مودی کو ان کی وجہ سے کوئی نقصان ہو۔

ایک اور سوال پر یشودھا کا کہنا تھا” مودی کے پاس ان کے لیے وقت نہیں تھا۔ علیحدگی کا فیصلہ ان کا اپنا تھا ،درمیان میں کوئی تنازع نہیں تھا۔
XS
SM
MD
LG