رسائی کے لنکس

شمالی کوریا نے میزائل کی پوزیشن تبدیل کر لی: امریکی حکام


وائٹ ہاؤس میں ایشیائی امور کے ایک سینیئر ڈائریکٹر ڈینیئل رسل کہتے ہیں کہ ابھی اس اقدام کو ’’اچھی خبر‘‘ قرار دے کر خوش ہونا قبل از وقت ہوگا اور انھوں نے متنبہ کیا کہ امریکی حکام میزائل تجربے کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

امریکہ کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اپنے دو میزائلوں کو داغے جانے کی پوزیشن نے ہٹا لیا ہے جو کہ بظاہر جزیرہ نما کوریائی خطے میں کشیدگی میں کمی کی جانب پیش رفت ہے۔

نام ظاہر کیے بغیر پیر کو رات دیر گئے واشنگٹن میں دفاعی حکام نے کہا کہ پیانگ یانگ نے ملک کے شمالی ساحل سے دو موسوڈان میزائلوں کو ہٹا لیا ہے۔ جنوبی کوریا میں ذرائع ابلاغ بھی اسی اقدام کی اطلاع دے رہے ہیں۔

واشنگٹن کئی ہفتوں تک یہ انتباہ کرتا رہا ہے کہ شمالی کوریا 3500 کلومیٹر تک مار کرنے والاموسوڈان میزائل لانچ کر سکتا ہے جو خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایشیائی امور کے ایک سینیئر ڈائریکٹر ڈینیئل رسل کہتے ہیں کہ ابھی اس اقدام کو ’’اچھی خبر‘‘ قرار دے کر خوش ہونا قبل از وقت ہو گا اور انھوں نے متنبہ کیا کہ امریکی حکام میزائل تجربے کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہوئی منگل کو واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کررہی ہیں جس میں پیانگ یانگ کے معاملات گفتگو کا محور ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG