رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: جوہری ہتھیاروں کے تیسرے تجربے کی تیاریاں


شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ تجربے کا مقصد ایک موسمیاتی سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجنا ہے۔ لیکن، دوسرے ممالک، جن میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، اِسے مخفی میزائل ٹیسٹ قرار دے رہے ہیں

جنوبی کوریا کی ’یونہاپ‘ نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ معلوم ہوتا ہے شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کے تیسرے تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔

رپورٹ میں نامعلوم انٹیلی جینس ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ کی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے شمال مشرق میں پنگیری کے جوہری تجربے کے مقام پر مزدور ایک نئی سرنگ بنا رہے ہیں۔ اِس سے قبل، شمالی کوریا اِسی مقام پر اپنے دو سابقہ نیوکلیئر تجربے کر چکا ہے، جِن میں سے پہلا اکتوبر 2006ء اور دوسرا مئی 2009ء میں کیا گیا۔

ذرائع نے یونہاپ کو بتایا کہ لگتا یوں ہے کہ سرنگ کی تعمیر کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے۔

شمالی کوریا نے فروری میں اِس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وہ نیوکلیئر ٹیسٹ، یورینیئم کی افزودگی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربات ختم کردے گا۔ کچھ ہی دِن کے اندر، امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نےمفلسی کی شکار شمالی کوریا کو مزید غذائی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم یہ سمجھوتا اُس وقت دھرا کا دھرا رہ گیا جب شمالی کوریا نے گذشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ طویل فاصلےتک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مغربی صحافی جنھیں تجربے کے مقام تک جانے کی اجازت ہوتی ہے، اتوار کے روز بتایا کہ میزائل کو پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ تجربے کا مقصد ایک موسمیاتی سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجنا ہے۔ لیکن، دوسرے ممالک، جن میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، اِسے مخفی میزائل ٹیسٹ قرار دے رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG