رسائی کے لنکس

کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی نے جمعرات کو ایک مضمون میں ری یونگ گِل کا بطور فوج کے سربراہ ذکر کیا۔

شمالی کوریا میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے چند ماہ قبل نامزد ہونے والے فوج کے سربراہ کی تبدیلی کی تصدیق کر دی ہے۔

اگست سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے طاقت کے استعمال کی حمایت کرنے والے فوج کے جنرل چیف آف اسٹاف کم کیوک سک کو برطرف کر دیا ہے۔

کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی نے جمعرات کو اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے ری یونگ گِل کا بطور فوج کے سربراہ ذکر کیا۔ شمالی کوریا کے رہنما نے جب ایک اہم مزار کا سرکاری دورہ کیا تو ری یونگ گِل ان کے ہمراہ تھے۔

ری کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ وہ ماضی میں فوج کے جنرل اسٹاف آپریشنز سے متعلق شعبے کے سربراہ تھے۔

اُن کے پیش رو کم کیوک سک کو مئی میں فوج کے سربراہ کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اُنھوں نے 2010ء میں ہونے والے ان دو حملوں میں کردار ادا کیا جن میں جنوبی کوریا کے 50 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

کم جونگ اِن نے اپنے والد کے انتقال کے بعد 2011ء کے اوخر میں اقتدار سنبھالا تھا اور وہ اب تک متعدد فوجی و سرکاری افسران کو تبدیل کر چکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ملک کی 12 لاکھ افراد پر مشتمل افواج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

کوریائی خبر رساں ایجنسی کے مضمون میں مسٹر کم کے پیانگ یانگ میں کمسوسن پیلس آف دی سن کے دورے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی کا 68 واں یوم تاسیس جمعرات کو منایا گیا۔
XS
SM
MD
LG