رسائی کے لنکس

بحری جہاز پر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا

  • ب

بحری جہاز پر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا

بحری جہاز پر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 26 مارچ کو اُس کے ایک جنگی بحری جہاز پر ہلاکت خیز حملے میں شمالی کوریا ملوث تھا۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار46 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

چینن نامی اس جہاز کے ڈوبنے کی تحقیقات کرنے والی بین الاقوامی ٹیم کے جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے معاون ڈائریکٹر یُون ڈک یونگ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاز شمالی کوریا میں بنائے جانے والے ایک تارپیڈو کے لگنے سے ڈوبا تھا ۔

انھوں نے کہ دوسری کو ئی قابل قبول وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جنوبی کوریا کی تحقیقات کی حمایت کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیا ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی کی پیر کو ٹیلی فون پر امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ ہونے والے گفتگو میں بھی یہ واقعہ زیر بحث آیا تھا۔ جنوبی کوریا کے صدر نے آسٹریلوی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں شمالی کوریا کے خلاف سخت اقداما ت کرنے کا عزم کیا تھا۔

لیکن شمالی کوریا نے ایک بارپھر بحری جہاز کے ڈوبنے کے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی تحقیقاتی رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس کے خلاف کو ئی کارروائی کی گئی تو وہ جنگ کے لیے تیارہے۔

بدھ کو جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے سامنے اس واقعہ کو پیش کرنے کے لیے ان کے ملک کے پاس پیانگ یونگ کے خلاف جہاز پر حملے کے ٹھوس اور کافی ثبوت ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تفتیش کے نتائج ”بہت پریشان کن“ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جمعرات کو جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے سرکاری دوروں پر روانہ ہوں گی اور باور کیا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کا واقعہ اور اس حوالے سے مستقبل کا لائحہ عمل اُن کے ایجنڈے پر سرفہرست ہو گا۔

جس علاقے میں جنوبی کوریا کا بحری جہاز ڈوباتھا وہاں 1953 ء میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت اقوام متحدہ نے پانی کی سرحدوں کا تعین کیا تھا۔ لیکن شمالی کوریا نے اس سرحد کو کبھی بھی درست تسلیم نہیں کیا ہے ۔ 1999ء سے لے کر اب تک جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان اس علاقے میں تین بڑی بحری جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG