رسائی کے لنکس

برطانیہ کے یورپی یونین میں شامل رہنے پر معاہدہ نہ ہو سکا


وزیراعظم کیمرون اور ڈونلڈ ٹسک لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر۔

وزیراعظم کیمرون اور ڈونلڈ ٹسک لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر۔

ہر سال بڑی تعداد میں یورپی یونین کے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن برطانیہ داخل ہوتے ہیں اور وہاں کے فلاحی وظائف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وزیر اعظم کیمرون ان وظائف کو چار سال کے لیے روکنا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ اتوار کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے مذاکرات برطانیہ کو یورپی یونین میں رکھنے کے معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں مگر انہوں نے کہا کہ پیر کو ’’تفصیلی‘‘ مذاکرات جاری رہیں گے۔

اتوار کی شام ٹسک نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں مذاکرات ’’انتہائی اہم‘‘ ہوں گے۔ کیمرون نے کہا کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں یورپی یونین میں اصلاحات کا مسودہ متوقع ہے جن کا مطالبہ برطانیہ نے 28 اقوام پر مشتمل اس سیاسی اور اقتصادی بلاک میں شامل رہنے کے لیے کیا تھا۔

طرفین کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ 18 فروری کو برسلز میں یورپی یونین کی دو روزہ سربراہ کانفرنس شروع ہونے سے قبل وہ کسی معاہدے پر اتفاق کر لیں گے۔

اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے لیے برطانوی عوام سے ایک ریفرینڈم کے ذریعے اس کی منظوری حاصل کی جائے گی جسے کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی نے 2017 کے آخر تک منعقد کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

ہر سال بڑی تعداد میں یورپی یونین کے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن برطانیہ داخل ہوتے ہیں اور وہاں کے فلاحی وظائف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وزیر اعظم کیمرون یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے کم آمدن والے افراد کو دیے جانے والے وظائف کو چار سال کے لیے روکنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے یورپی یونین سے اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعے کو یورپی یونین کے حکام نے برطانیہ کو ’’ایمرجنسی بریک‘‘ کہلانے والے ایک طریقہ کار کی پیشکش کی تھی جسے برطانیہ فلاحی بجٹ پر دباؤ پڑنے کی صورت میں استعمال کر کے عارضی طور پر ایسے وظائف کو محدود کر سکتا۔

مگر کیمرون نے بعد میں کہا کہ یہ پیشکش ’’اتنی اچھی نہیں۔‘‘ اطلاعات کے مطابق وہ اس طریقہ کار کو جلد نافذ کرنے اور زیادہ طویل عرصہ تک نافذ رکھنے کے لیے مزید رعائتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانیہ یورو کرنسی استعمال نہ کرنے والے یورپی ممالک کے لیے زیادہ تحفظات کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG